• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فنانس بل میں ٹیکس چھوٹ، 6 ارب ڈالر ریفائنری اپ گریڈ منصوبے کی راہ ہموار

اسلام آباد(خالد مصطفیٰ)فنانس بل میں ٹیکس چھوٹ سے 6ارب ڈالر ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبے کی راہ ہموار ہوگئی۔منصوبوں کیلئے درآمد کی جانے والی مشینری، آلات اور اسپیئر پارٹس پر کسٹمز ڈیوٹی ، سیلز و دیگرٹیکس ختم کردئیے گئے ۔ پیٹرول پیداوار دگنی اور فرنس آئل میں 80فیصد کمی متوقع،تاخیر کے باعث 11ارب ڈالر تک نقصان کا خدشہ ہے۔ پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک بڑی پیش رفت میں، حکومت نے ملک کے طویل عرصے سے زیر التوا 6 ارب ڈالر کے ریفائنری جدیدکاری پروگرام کے آغاز میں حائل سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک کو دور کر دیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے فنانس بل کے تحت ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری، آلات اور اسپیئر پارٹس کو کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر قابل اطلاق درآمدی محصولات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔اس اقدام سے براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کے نفاذ میں نئی رفتار آنے کی توقع ہے۔ یہ ایک اسٹریٹجک اقدام ہے جسے اگست 2023 میں موجودہ ریفائننگ ڈھانچے کو جدید بنانے، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پاکستان کے درآمد شدہ ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات پر انحصار کو کم کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید