کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر) وفاقِ پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز پاکستان نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو مسترد کرتے ہوئے اسے ملک کے اعلیٰ تعلیمی شعبے کے لیے انتہائی مایوس کن اور نقصان دہ قرار دیا ہے فپواسا پاکستان نے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک بھر کی سرکاری جامعات شدید مالی بحران کا شکار ہیںمگر اس کے باوجود وفاقی حکومت نے جامعات کے لیے مناسب ریکرنگ گرانٹ مختص نہیں کیمتعدد جامعات اپنے روزمرہ اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں جبکہ کئی اداروں کو اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہےحالانکہ یہ تمام ملازمین کا بنیادی حق ہے فاپواسا کا مؤقف ہے کہ جامعات کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہیںسائنس و ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت اور معاشی استحکام کے میدان میں ترقی کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک اعلیٰ تعلیم اور تحقیق میں خاطر خواہ سرمایہ کاری نہ کی جائے توقع تھی کہ وفاقی حکومت کم از کم 250 ارب روپے بطور ریکرنگ گرانٹ سرکاری جامعات کے لیے مختص کرے گی تاکہ وہ اپنے مالی مسائل پر قابو پا سکیں اور تعلیم و تحقیق کا عمل متاثر نہ ہوبدقسمتی سے بجٹ میں اس بنیادی ضرورت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے فپواسا کے مطابق اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو مسلسل نظر انداز کرنے کے نتیجے میں جامعات کے پاس صرف دو راستے رہ جائیں گےیا تو وہ اپنیتعلیمی و تحقیقی سرگرمیوں کو محدود کر دیں یا پھر طلبہ کی فیسوں میں مزید اضافہ کریںجبکہ موجودہ فیسیں پہلے ہی متوسط اور غریب گھرانوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکی ہیںاگر جامعات کے مالی بحران کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو ملک بھر کی جامعات کی اساتذہ برادری اور تعلیمی حلقوں کے ساتھ مل کر ایک ملک گیر تحریک شروع کی جائے گی۔