لاہور( آصف محمود بٹ)پنجاب کا5903 ارب کا ٹیکس فری بجٹ پیش ،تنخواہیں7،پنشن میں 3.5 فیصد اضافہ ۔تعلیم 750ارب،صحت 500 ارب، مقامی حکومتوں کیلئے 803ارب 88کروڑ روپے(تقریباً804) مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ترقیاتی بجٹ 1450 ارب سے کم کرکے 752 ارب، لیپ ٹاپ پروگرام 27ارب، ہونہار اسکالر شپ 15ارب، انفارمیشن اینڈ کلچر کیلئے 6 ارب 70 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ کسان کارڈ پروگرام کیلئے 10 ارب ، مفت ادویات 82.80 ارب، رمضان پیکیج کیلئے 37 ارب مختص، صوبے کو سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کا ہدف مقرر کردیا۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اپنی بجٹ تقریر میں کہاکہ ایران،امریکا امن معاہدہ پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف امن معاہدے پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو بھی امن معاہدے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ مشکل حالات میں ملک کو بحرانوں سے نکالا ۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے عوام کو اپنے وسائل سے ریلیف دینے کے لئے پر عزم ہوں،پنجاب کے عوام کی ترقی کے سفر پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔ پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 27-2026 کا 5 ہزار 903 ارب روپے حجم کا ٹیکس فری بجٹ ایوان میں پیش کردیا۔پنجاب اسمبلی کا بجٹ اجلاس ایک گھنٹہ چالیس منٹ کی تاخیر سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کا اعلان کیا گیا ہے،صحت کیلئے 500ارب،تعلیم کیلئے 750ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،مقامی حکومتوں کیلئے803ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔مالی سال 2026-27 کے لیے ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم کرکے 752 ارب روپے رکھنے کی تجویز،لیپ ٹاپ پروگرام 27ارب ،ہونہار اسکالر شپ 15ارب،انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 83کروڑ روپے،پنجاب اسمبلی کیلئے 15ارب روپے رکھنے کی تجویز،کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے مختص،پنجاب کو سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کا ہدف مقرر۔اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک، نعتِ رسولِ مقبولؐ اور قومی ترانے سے کیا گیا۔وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ایران،امریکا امن معاہدہ پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، قائد نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف امن معاہدے پر مبارکباد کے مستحق ہیں.