اسلام آباد (ساجد چوہدری ) صدرِ مملکت و چیئرمین کامسٹیک کی ہدایت پر کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل ڈاکٹر اقبال چوہدری کیخلاف قائم انکوائری کمیٹی نے کامسٹیک سیکریٹریٹ کو 10جولائی تک پچھلے 6 سال کا مالی و انتظامی ریکارڈ طلب کر لیا، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری مراسلے کامسٹیک سے 2020تا 2025کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے، تمام آمدن اور اخراجات کی تفصیلات، او آئی سی رکن ممالک کی جانب سے موصول ہونے والے فنڈز، بینک اکاؤنٹس، بینک اسٹیٹمنٹس، سرمایہ کاری، کرایوں، منافع، اثاثوں کی خریداری، سرکاری و غیر ملکی دوروں کا مکمل ریکارڈ اور ان پر ہونے والے اخراجات طلب کیے گئے ہیں، انکوائری کمیٹی نے کامسٹیک کے تمام ملازمین، افسران اور مشیروں کی تقرریوں، تنخواہوں، تنظیمی ڈھانچے میں 2020 سے 2026 کے دوران کی گئی تبدیلیوں، نئی آسامیوں کے قیام، تنخواہوں میں اضافے، برطرف کیے گئے ملازمین اور ان کے خلاف ہونے والی انکوائریوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، مقامی اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدوں، مفاہمتی یادداشتوں ، ان پر خرچ ہونے والے فنڈز، حاصل شدہ نتائج، متعلقہ منظوریوں اور کابینہ ڈویژن کی ہدایات پر عملدرآمد کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔