انصار عباسی اسلام آباد :…با اثر حلقوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگرچہ آج قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو نہیں چھیڑا جا رہا لیکن اگر ملک کو پائیدار انداز میں چلانا اور مالی لحاظ سے مستحکم رکھنا ہے تو ایوارڈ میں تبدیلی ناگزیر ہو گی۔ باخبر سرکاری ذرائع کے مطابق، یہ موقف پالیسی سازی سے جڑے حلقوں حتیٰ کہ حکمران اتحاد کے اندر بھی زیرِ بحث ہے اور اسے ایک ایسا معاملہ سمجھا جا رہا ہے جسے زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بننے والا وسائل کی تقسیم کا فارمولا مالی اختیارات کو اس حد تک صوبوں کے حق میں لے گیا ہے کہ وفاقی حکومت کیلئے دفاع، قرضوں کی ادائیگی اور قومی سلامتی جیسے بنیادی فرائض کی انجام دہی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بحث مالی سال 2026-27ء کے بجٹ سے قبل ہونے والی مشاورت کا بھی حصہ رہی۔ نون لیگ اس میں ضروری تبدیلی کی حامی تھی لیکن پیپلز پارٹی خاص طور پر سندھ میں ممکنہ سیاسی اثرات کے باعث این ایف سی شیئر میں تبدیلی کیلئے تیار نہیں تھی۔ تاہم بااثر حلقوں کی خواہش کے پیش نظر پیپلز پارٹی نے این ایف سی کو باضابطہ طور پر چھیڑے بغیر ایک نرم تبدیلی پر آمادگی ظاہر کی۔ وفاقی حکومت نے بجٹ 2026-27ء میں اعلان کیا کہ صوبے آئین کے آرٹیکل 164؍ کے تحت دفاعی ضروریات اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع کے ممکنہ معاشی اثرات سے نمٹنے کیلئے وفاق کو 1035؍ ارب روپے کی گرانٹ دیں گے۔ اگرچہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اصرار کیا کہ اس انتظام کا این ایف سی سے تعلق ہے اور نہ اس سے وسائل کی آئینی تقسیم میں کوئی تبدیلی آئے گی لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت نے بااثر حلقوں کے اس موقف کو مزید تقویت دی ہے کہ موجودہ مالیاتی ڈھانچہ طویل مدت کیلئے قابلِ عمل نہیں اور بالآخر اس کا باضابطہ جائزہ لینا ہوگا۔