• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی بیوروکریسی کا بڑا تضاد، 50 سے زائد اداروں کے ملازمین کو بھاری تنخواہوں کے پیکج، بنیادی تنخواہ کے 100 فیصد سے بھی زائد اضافی مراعات

انصار عباسی

اسلام آباد:…وفاقی بیورو کریسی کے سب سے بڑے تضادات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ادارے جنہیں انصاف، احتساب اور مساوات کو یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، انہی میں سے بعض اداروں کے ملازمین کو معیاری سرکاری تنخواہی ڈھانچے سے کہیں زیادہ مراعات حاصل ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، 50؍ سے زائد وفاقی اداروں کے ملازمین کو بنیادی تنخواہ کے 100؍ فیصد سے بھی زائد اضافی مراعات کے ساتھ زیادہ تنخواہیں دی جا رہی ہیں۔ تنخواہوں کے ڈھانچے سے وا،قف حکام کے مطابق، بعض صورتوں میں مجموعی تنخواہیں عام سرکاری محکموں میں اِسی گریڈ کے افسران کے مقابلے میں دو سے تین گنا تک زیادہ ہیں۔ تاہم اس فہرست کو نمایاں بنانے والی بات صرف اداروں کی تعداد نہیں بلکہ ان کی نوعیت بھی ہے۔ ان میں صدر سیکریٹریٹ، وزیر اعظم آفس، قومی اسمبلی سیکریٹریٹ، سینیٹ سیکریٹریٹ، تمام اعلیٰ عدالتیں، قومی احتساب بیورو، انٹیلی جنس ادارے، ٹیکس حکام اور مختلف خصوصی ٹربیونلز اور عدالتوں کے ملازمین شامل ہیں۔ یہ ادارے جو اکثر مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں، پالیسیاں اور قوانین بناتے ہیں اور انصاف، احتساب اور مساوی سلوک سے متعلق تنازعات کا فیصلہ کرتے ہیں، مگر خود ان میں تنخواہوں کا ایک ایسا نظام ہے جسے کئی سرکاری ملازمین غیر مساوی کہتے ہیں۔ کئی برسوں سے وفاقی حکومت مختلف وجوہات کی بنیاد پر منتخب اداروں کو خصوصی الاؤنسز دیتی رہی ہے، جن میں کارکردگی کی ترغیبات، عملی ضروریات اور ہنر مند عملے کو برقرار رکھنا شامل ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ ایک ہی حکومتی ڈھانچے کے اندر متعدد تنخواہی نظاموں کی صورت میں نکلا ہے۔ ایک عام وزارت میں کام کرنے والا گریڈ 20؍ کا افسر اُس افسر کے مقابلے میں کہیں کم تنخواہ حاصل کرتا ہے جو اِسی گریڈ میں کسی ایسے ادارے میں تعینات ہو جہاں خصوصی الاؤنسز دیے جاتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے یکساں بنیادی تنخواہ کے نظام کا اصول متاثر ہوا ہے اور ایسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جسے کئی بیوروکریٹس ’’حکومت کے اندر حکومت‘‘ قرار دیتے ہیں۔ چند سال قبل وزارتِ خزانہ نے صرف وفاقی سیکریٹریٹ کے اُن ملازمین کیلئے ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس (ڈی آر اے) متعارف کرایا تھا جو معمول کی تنخواہیں لے رہے تھے۔ اگرچہ یہ اس بات کا اعتراف تھا کہ تنخواہوں کا فرق حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، لیکن وفاقی سیکریٹریٹ کے باہر زیادہ تر سرکاری ملازمین کو یہ الاؤنس نہیں دیا گیا۔ وفاقی سیکریٹریٹ کے ان افسران کو اضافی معاوضہ دے کر جنہیں پہلے کوئی خصوصی مراعات حاصل نہیں تھیں، حکومت نے سول سروس میں بڑھتی بے چینی کم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، بااثر ادارے اب بھی اپنے ملازمین کیلئے مزید الاؤنسز اور مراعات حاصل کرتے جا رہے ہیں۔ مساوی نظام کو یقینی بنانے کیلئے بنایا گیا تنخواہوں کا ڈھانچہ اب موثر نہیں رہا کیونکہ درجنوں ادارے الگ الگ نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ اعلیٰ سطح کے آئینی عہدوں اور انفورسمنٹ ایجنسیوں کے علاوہ، زیادہ مراعات دینے والے اداروں میں خصوصی تعلیمی، بحالی اور صحت کے ادارے، ٹربیونلز، پولیس تنظیمیں اور خودمختار ادارے بھی شامل ہیں۔ کئی سرکاری ملازمین کیلئے یہ مسئلہ اب صرف تنخواہوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کا تعلق مورال، کیریئر کے انتخاب اور ریاستی نظام میں انصاف کے تاثر سے بھی جڑ گیا ہے۔ افسران عموماً زیادہ مراعات والے اداروں میں تبادلے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ عام محکموں میں رہنے والے افسران شکایت کرتے ہیں کہ وہ یکساں کام کے باوجود کم معاوضہ حاصل کر رہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید