• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسانی اسمگلنگ کے خلاف پاکستان کی جنگ، امریکی سرحدی ماڈل، سبق کیا ہے

کراچی( ثاقب صغیر )پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔پاکستان میں انسانی اسمگلنگ محض امیگریشن کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، ادارہ جاتی شفافیت اور انسانی جانوں کے تحفظ کا معاملہ بن چکا ہے۔یونان کشتی حادثات سے لے کر مشرق وسطیٰ میں بھیک مانگنے والے نیٹ ورکس اور یورپ جانے کی غیر قانونی کوششوں تک یہ کاروبار ہزاروں خاندانوں کی زندگیاں تباہ کر چکا ہے۔پاکستان میں انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف کارروائیوں کی بنیادی ذمہ داری فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے پاس ہے۔ ایف آئی اے کا اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل انسانی اسمگلنگ کے خلاف چھاپے مارنے، مقدمات درج کرنے اور ملزمان کو عدالتوں تک پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔یونان میں غیر قانونی تارکین وطن کو پیش آنے والے مختلف کشتی حادثات میں ہونے والی ہلاکتوں جن میں پاکستانی شہری بھی شامل تھے کے بعد موجودہ حکومت نے انسانی اسمگلروں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ایف آئی اے کی جانب سے بیرون ملک بھیجے جانے والے افراد کے نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی،انٹرپول کے ذریعے اشتہاری ملزمان کے ریڈ نوٹس جاری کیے گئے، امیگریشن نظام میں نگرانی کے نظام کی بہتری کے دعوے کیے گئے جبکہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔پاکستان کی سرحدیں افغانستان، ایران، چین اور بھارت سے ملتی ہیں تاہم غیر قانونی آمد و رفت کے زیادہ تر راستے پاک افغان اور پاک ایران سرحدوں سے جڑے ہوئے ہیں۔غیر قانونی تارکین وطن سرحدی باڑ میں موجود کمزور مقامات یا غیر رسمی راستوں کا استعمال کرتے ہیں، قانونی ویزے پر داخل ہو کر مدت ختم ہونے کے باوجود قیام پاکستان میں قیام کرتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید