کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ شاہد جان نے کہا ہے کہ اسمگلنگ کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے البتہ ٹریڈر اور اسگلر میں فرق ہونا چاہیئے کسٹمز کیچیک پوسٹوں سے پرائیویٹ لیبر کو ہٹا دیا گیا ہے جس چیک پوسٹ پر پرائیویٹ افراد کی موجودگی اور چیکنگ کے ثبوت ملے اس کے انچارج کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی لکپاس کسٹمز میں آتشزدگی کے بارے میں جے آئی ٹیتشکیل دے دی گئی ہے جس کے ذریعے پتہ چل جائے گا کہ وہاں آگ لگی یا لگائی گئی ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان بزنس الائنس اینڈ ایکشن کمیٹی اور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کے ساتھ منعقدہ اجلاس کے موقع پر کیا شاہد جان نے کہا کہ اب تفتان سے آنے والی گاڑی کی تاخیر پر کسٹمز کے افسران سے باز پرس ہوگی ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کی گاڑیوں یا دو چار سمرسیبل اور کاٹن پر مسافر بسوں کو تحویل میں نہیں لیا جائے گاکسٹمز چیک پوسٹوں پر ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کے ساتھ امتیازی رویہ برداشت نہیں کیا جائے گاحکومت کی جانب سے محکمہ کسٹمز کو بھر پور فنڈز کا اجراء کیا جاتا ہے اس لئے چیک پوسٹوں پر رقوم لینے کی کوئی ضرورت نہیں اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی مال بردار گاڑیوں کی ضبطگی قانون کے مطابق کی جاتی ہے بزنس کمیونٹی کےلئے میرے آفس کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔