• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک بھر کی 44 جامعات میں کمپیوٹر سائنس اور کمپیوٹنگ پروگراموں میں داخلے معطل

کراچی( سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان نے قومی ہنر کی اہلیت کے امتحان( National Skill Competency Test ) 2026 میں خراب نتائج کی بنیاد پر 44 جامعات کے کمپیوٹنگ اور کمپیوٹر سائنس کے شعبوں میں داخلے عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔ ڈی جی کوالٹی ایسشورنس ناصر شاہ کے انتہائ قریبی زرائع کے مطابق ایچ ای سی نے یہ اقدام معیارِ تعلیم کو یقینی بنانے کے کیا ہے کیونکہ ان جامعات کے طلبہ کی بڑی اکثریت اس ٹیسٹ میں فیل ہوگئی تھی،خراب کارکردگی والی 10جامعات کا تعلق سندھ سے ہے،۔ ناصر شاہ کے قریبی زرائع نے بتایا کہ ایچ ای سی کی جانب سے طلبہ کے لیے اہم ہدایت جاری کی جارہی ہے جس کے مطابق ان جامعات اور اداروں میں کمپیوٹنگ پروگراموں میں نئے داخلے اس وقت تک روک دیے گئے ہیں جب تک ادارہ جاتی جانچ پڑتال، معیار کا جائزہ اور متعلقہ اتھارٹی سے منظوری کا عمل مکمل نہیں ہو جاتا لہذا طلبہ اور والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی کمپیوٹنگ پروگرام میں داخلہ لینے سے قبل متعلقہ ادارے کی موجودہ حیثیت کی تصدیق ضرور کریں جن 44 جامعات اور اداروں کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے ان میں الحمد اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس، سرحد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان، ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ، ایم این ایس یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان، ویمن یونیورسٹی مردان، ویمن یونیورسٹی ملتان، لاہور لیڈز یونیورسٹی لاہور، یونیورسٹی آف صوابی، ایمان انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز کراچی، گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، غازی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ سائنسز ڈیرہ غازی خان،علما یونیورسٹی کراچی، چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز بہاولپور، یونیورسٹی آف فاٹا درہ آدم خیل، یونیورسٹی آف کوٹلی آزاد کشمیر، یونیورسٹی آف جھنگ، کوہسار یونیورسٹی مری، یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نوشہرہ، بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کراچی، گرین انٹرنیشنل یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مکران، پنجگور، بیگم نصرت بھٹو وومن یونیورسٹی، سکھر، یونیورسٹی آف بلتستان اسکردو، یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، ویمن یونیورسٹی صوابی، یونیورسٹی آف لورالائی، یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور، شہید بینظیر بھٹو وومن یونیورسٹی پشاور، پریسٹن یونیورسٹی اسلام آباد، ویمن یونیورسٹی آف آزاد جموں و کشمیر باغ، الحمد اسلامک یونیورسٹی کوئٹہ، یونیورسٹی آف لکی مروت، سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی، ٹنڈو جام، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی خضدار، نادرن یونیورسٹی، نوشہرہ، دی یونیورسٹی آف لاڑکانہ، یونیورسٹی آف صوفی ازم اینڈ ماڈرن سائنسز بھٹ شاہ، یونیورسٹی آف بونیر، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی، کرک برینز انسٹی ٹیوٹ پشاور، ملینیم انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ، انٹرپرینیورشپ (MITE) کراچی، محی الدین اسلامک یونیورسٹی، ترکھل آزاد کشمیراورشہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز سکرنڈ شامل ہیں۔ ایچ ای سی کے مطابق یہ اقدام کمپیوٹنگ پروگراموں کے معیار، نصاب، فیکلٹی اور تدریسی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائ جاسکے۔

اہم خبریں سے مزید