• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناکام منصوبہ بندی، داسو بھاشا اور جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے پر 39 کھرب کا بوجھ آئیگا، AGP رپورٹ

اسلام آباد(قاسم عباسی)آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کی رپورٹ 2025-26 کے مطابق داسو ہائیڈرو پاور، دیامر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ناکامیوں کے باعث قومی خزانے پر تقریباً 39 کھرب روپے کا بوجھ ڈالیں گے۔  توانائی کے یہ اہم منصوبے صرف مالی سال 2024-25کے دوران ہی براہِ راست نقصانات، آمدنی میں کمی اور 358 ارب کے خسارے کا سبب بنے،داسو منصوبے میں لاگت 257فیصد بڑھ گئی، تخمینہ 486ارب روپے تھا، دیامربھاشاڈیم کا بجٹ 149ارب تھا، بجلی بنانے کیلیے1424ارب اور چاہئیں،  آڈیٹر جنرل کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ توانائی کے یہ اہم منصوبے صرف مالی سال 2024-25 کے دوران ہی براہِ راست نقصانات، آمدنی میں کمی اور غیر منظور شدہ بجٹ اضافوں کی مد میں 358 ارب روپے سے زائد کے فوری مالی خسارے کا سبب بنے ہیں۔یہ طویل المدتی مالی بحران بنیادی طور پر داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور دیامر بھاشا ڈیم منصوبے میں شدید لاگتی اضافوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ داسو منصوبے میں لاگت 257 فیصد بڑھ گئی، جہاں پہلے مرحلے کی لاگت کا تخمینہ 486 ارب روپے تھا جو بڑھ کر 1,737 ارب روپے تک پہنچ گیا۔اسی طرح دیامر بھاشا منصوبے نے بھی ریاستی وسائل کو بڑی حد تک جکڑ لیا ہے۔ مرکزی ڈیم کی تعمیر کی ابتدائی لاگت 479 ارب روپے تھی، جبکہ زمین کے حصول اور آبادکاری پر پہلے ہی 151 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں، حالانکہ نظرثانی شدہ بجٹ 149 ارب روپے تھا۔ مزید برآں، بجلی پیدا کرنے کی مجوزہ تنصیبات کے لیے 1,424 ارب روپے درکار ہوں گے، جس کا پی سی-1 ابھی تک منظور نہیں ہوا۔ان انفراسٹرکچر منصوبوں کی بڑھتی لاگت کے ساتھ ساتھ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ بھی بھاری آپریشنل نقصانات کا شکار ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کو سالانہ 29 ارب روپے کا خالص نقصان ہو رہا ہے جبکہ پلانٹ کی بندش کے باعث کاروباری تعطل کا نقصان 99 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔مزید برآں، ٹیرف کی منظوری نہ ملنے کے باعث 77.346 ارب روپے کی آمدنی کا خسارہ بھی سامنے آیا ہے، جس سے نیلم جہلم منصوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ اس وقت اس کی موجودہ واجبات، موجودہ اثاثوں سے 307.894 ارب روپے زیادہ ہیں۔داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو عملدرآمد میں شدید ناکامیوں کا سامنا ہے۔ آڈٹ کے مطابق منصوبے کی جسمانی پیش رفت صرف 26.08 فیصد ہے، حالانکہ اصل مالی مختص رقم کا 84.82 فیصد استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں منصوبے کی تکمیل کی مدت 2019سے بڑھ کر نومبر 2028 تک جا پہنچی ہے، یعنی مجموعی طور پر نو سال کی تاخیر۔جون 2025 تک پہلے مرحلے پر 412.289 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ کی مجموعی مختص رقم 695.066 ارب روپے تھی۔اب تک منصوبے کی مالی معاونت میں واپڈا ایکویٹی سے 168.75ارب روپے، حبیب بینک کی سربراہی میں مقامی بینک قرض سے 113.563 ارب روپے، عالمی بینک کے آئی ڈی اے-1کریڈٹ سے 79.273ارب روپے اور کریڈٹ سوئس سے 50.703ارب روپے شامل ہیں۔ عملی سطح پر منصوبہ 11سال گزرنے کے باوجود مطلوبہ تمام زمین حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید