کراچی (رفیق مانگٹ )امریکی سی آئی اے کے سابق انٹیلی جنس افسر لیری سی جانسن کا کہنا ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ کا ابھرتا پاور بروکر ہے، پاکستان روس اور چین کے ساتھ مل کر خلیج میں نیا سیکورٹی ڈھانچابنارہاہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سعودی ولی عہد سے مالی ضمانت لی اور قطر کو بھی شامل کیا،مصر، ترکیہ اور سعودی وزرائے خارجہ کا اجلاس بلا کر نئے علاقائی سیکورٹی بلاک کی بنیاد رکھی۔امریکی سی آئی اے کے سابق انٹیلی جنس افسر لیری سی جانسن نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کا ابھرتا پاور بروکر قرار دیا، جہاں انہوں نے ایک طرف پاکستانی انٹیلیجنس کے عالمی اور مؤثر نیٹ ورک، غیر معمولی مہارت، ڈرائیورز جیسے کور ذرائع سے معلومات کے حصول، اعلیٰ تعلیمی معیار اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کو خطے میں “آرکسٹرا کا ڈائریکٹر” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان روس اور چین کے ساتھ مل کر خلیج میں نئی سیکیورٹی آرکیٹیکچر تشکیل دے رہا ہے۔ماریو نوفل کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو چابہار بندرگاہ کے تنازع کے باوجود بہتر بنایا، ایرانی قیادت کو مبینہ سیکیورٹی مشاورت فراہم کی، سوئٹزرلینڈ میں تعطل کا شکار امریکہ-ایران مذاکرات میں 12 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کے مسئلے پر پیش رفت کروائی،جہاں جنرل عاصم منیر نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے مالی ضمانت لی اور قطر کو بھی شامل کیا، جس کے بعد ایران امریکی فنڈز سے بے نیاز ہو گیا۔