• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حالیہ جنگ کے بعد خلیجی ریاستوں کو تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، دی اکانومسٹ

دبئی/دوحہ/ریاض ( جنگ نیوز) ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے اثرات نے خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کو 1990 میں کویت پر عراقی حملے کے بعد سب سے بڑے علاقائی بحران سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ خطے کی معاشی ترقی، سرمایہ کاری، سیاحت اور سلامتی سے متعلق خدشات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ کے بعد خلیجی ریاستوں کو تین بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں اعتماد کی بحالی، معاشی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی، اور پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال سے نمٹنا شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نسبتا بہتر حالت میں ہے، امریکی سیکورٹی ضمانتوں پر خلیجی ریاستوں کو کوئی اعتبار نہیں رہ گیا، اومان کا رویہ نرم ہے،کویت اور قطر کا رویہ بھی یو اے ای اور سعودی عرب سے مختلف ہے۔رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں خلیجی ممالک کو دسیوں ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، اگرچہ جانی نقصان محدود رہا۔ آبنائے ہرمز تقریباً چار ماہ تک بند رہنے سے خطے میں معاشی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا۔

اہم خبریں سے مزید