بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے رواں سال اپنے گھر میں پیش آنے والے جان لیوا چاقو حملے پر پہلی بار کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ میں اس روز زندہ نہیں بچ پاؤں گا۔
ایک حالیہ انٹرویو میں سیف علی خان نے بتایا کہ حملہ آور رات کے وقت میرے ممبئی میں واقع گھر کی کھڑکی سے اندر داخل ہوا، مسلح شخص نے بڑی رقم کا مطالبہ کیا اور اس نے متعدد چاقو اپنے ساتھ رکھے ہوئے تھا۔
سیف علی خان نے کہا کہ یہ ایسا واقعہ تھا جس نے میری زندگی بدل دی، مجھے اور میرے بچوں کو یقین ہو گیا تھا کہ شاید میں اس دن زندہ نہ بچ سکوں۔
اداکار کے مطابق حملہ آور پہلے میرے بچوں کے کمرے میں داخل ہوا اور انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی، بچوں کی آیا نے فوری طور پر مجھے اطلاع دی، جس پر میں وہاں پہنچا تو حملہ آور نے مجھ پر یکے بعد دیگرے کئی وار کیے۔
سیف علی خان نے بتایا کہ حملے کے دوران میری گردن اور ریڑھ کی ہڈی سمیت جسم کے مختلف حصوں پر شدید زخم آئے اور میرے سفید کُرتے پاجامے پر خون ہی خون پھیل گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعد ازاں گھر میں موجود ملازمہ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو باہر نکالنے میں مدد کی۔
واقعے کے فوراً بعد 55 سالہ اداکار کو رات تقریباً ساڑھے تین بجے ممبئی کے لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا فوری علاج کیا گیا۔
واضح رہے کہ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور بھارتی فلم انڈسٹری میں شدید تشویش پیدا کر دی تھی۔