اپنے پوتے کو پلے اسٹیشن پرویڈیو گیم کھیلتے دیکھا، تو ذہن ماضی کے دُھندلکوں میں کھوگیا۔ ’’پاپا! مَیں نے گاڑی لینی ہے۔‘‘ بیٹے نے ضد کے اندازمیں فرمائش کی۔اُس کی آنکھوں میں ایک چمک سی تھی، جیسے کسی بڑے خواب کی تکمیل نظر آرہی ہو۔ ہم نے پوچھا۔’’بیٹا! کون سی گاڑی لینی ہے آپ نے؟‘‘ اُس نے فوراً جواب دیا۔ ’’ریموٹ کنٹرول والی…۔‘‘ ہم نے بخوشی اُس کی معصومانہ خواہش پوری کردی اور اب وہ اپنی گاڑی کے ساتھ فرش پر بیٹھا کھیل رہا تھا۔ وہ کبھی اُسے آگے بڑھاتا، کبھی پیچھے کرتا اور کبھی دیوار سے ٹکرا کرخُود ہی ہنسنےلگتا۔ اُس کی خوشی دِیدنی تھی۔
اتنے مہ و سال گزرنے کے بعد اپنے پوتے کو خاموشی سے پلے اسٹیشن پر ویڈیو گیمز کھیلتے دیکھا، تو ہم ماضی کےاُس دَور میں کھوگئے کہ جب کھیل تو سادہ تھے، مگر بچپن نسبتاً بھرپور محسوس ہوتا تھا۔ اندازہ ہوا کہ ارتقاء اور تبدیلی کے اس سفر نے کھیلوں کے رنگ ڈھنگ اور طور طریقے تک بدل کر رکھ دیے ہیں اور یہ محض کھلونوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ انسانی طرزِ زندگی، ترجیحات اور ذہنی ساخت میں رُونما ہونے والا ایک گہرا بدلاؤ ہے۔
ایک زمانہ تھا، جب بچّوں کے کھلونے مٹی سے تیار کیے جاتے تھے۔ گھگو گھوڑے، مٹی کی گاڑیاں اور چھوٹے برتن وغیرہ گرچہ سادہ سی چیزیں تھیں، مگر بچّوں کو ان سے غیر معمولی اپنائیت اور اُنس محسوس ہوتا تھا۔ بچّے انہیں ہاتھوں میں لے کر گھنٹوں کھیلتے، نت نئی کہانیاں گھڑتے اور اپنی دُنیا خود تخلیق کرتے۔ مٹی کا گھوڑا کسی کے لیے شاہی سواری ہوتا، تو کسی کے لیے میدانِ جنگ کا ساتھی۔ اس کھیل کُود میں بجلی کا کوئی عمل دخل تھا اور نہ اسکرین اور بٹنز کا، مگر آزادی بہت تھی، جو آج کے ڈیجیٹل دَور میں کم ہوتی جا رہی ہے۔
اُس زمانے میں مٹّی کے کھلونوں سے کھیلنے والا بچّہ اپنے ذہن میں ایک نئی دُنیا تخلیق کرتا تھا۔ اُسے وقت کی دولت اور تخیّل کی طاقت کے علاوہ ایک ایسا ماحول دست یاب تھا کہ جہاں وہ بِلا رُکاوٹ سب کچھ کر سکتا تھا۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ گلیاں، دوست، قہقہے، غُل غپاڑا اور توانائی سے بھرپور زندگی اُس کی ہم سفر ہوتی تھی۔
پھر وقت نے کروٹ بدلی اور ان کھلونوں میں پہیے لگ گئے۔ اب کھلونا صرف ہاتھ میں رکھنے کی چیز نہیں رہا بلکہ حرکت کرنے لگا۔ بچّے اپنے کھلونوں کو دھکیلتے، دوڑاتے اور خود اُن کے پیچھے بھاگتے۔ یہ کھیل جسمانی سرگرمی سے بھرپور تھا۔ بچّے دوڑتے، گرتے، اُٹھتے اور دوبارہ کھیل میں شامل ہو جاتے۔ یہ وہ دَور تھا، جب کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ جسمانی و سماجی تربیت کا حصّہ بھی تھا۔ اس کے بعد چابی والے کھلونوں کا دَور آیا۔
یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ بچّے کھلونے کو چابی دیتے اور وہ خود بخود چلنے لگتا۔ اس حرکت میں ایک حیرت اور کشش تھی۔ بچّے بار بار یہ عمل دُہراتے اور ہر بار پہلی سی سادگی سے خوش ہوتے۔ یہ وہ مرحلہ تھا کہ جب کھیل کُود میں میکانکی شعور شامل ہونے لگا کہ حرکت کے پیچھے کوئی نظام اور کوئی طاقت موجود ہوتی ہے۔
پھر تار والے ریموٹ کنٹرولڈ کھلونے آئے۔ اب بچّہ فاصلے سے کھلونے کو کنٹرول کر سکتا تھا۔ یہ ایک نئی طاقت، ایک نیا احساس تھا کہ چیزوں کو دُورسے بھی حرکت دی جاسکتی ہے۔ یہ دراصل بچّوں کا جدید ٹیکنالوجی سے پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔ اس کے بعد وائرلیس ریموٹ کنٹرول نے کھیل کو مزید آزاد کردیا۔ تار رہا اور نہ کوئی رکاوٹ۔ بچّہ جہاں چاہے بیٹھ کر اپنے کھلونوں سے لُطف اندوز ہوسکتا تھا۔ یہ ایف ایم سگنلز پر چلنے والے کھلونے تھے، جو جدید دَورکی جھلک پیش کرتے تھے۔
یہاں تک تو سب کچھ ترقّی، سہولت اور جدّت کا تسلسل محسوس ہوتا ہےمگر اصل تبدیلی اُس وقت آئی کہ جب کھیل اسکرین میں قید ہوگئے۔ ویڈیو گیمز کا آغاز ایک سادہ تفریح کے طور پر ہوا تھا، مگر آہستہ آہستہ اس نے ایک نسلِ انسانی کے طرزِ زندگی خصوصاً بچپن اور لڑکپن کو سرتاپا بدل دیا۔ پلے اسٹیشنز، کمپیوٹر گیمز، گیمنگ کنسولز، اسمارٹ فونز اور ٹیبلیٹس نےکھیل کو ایک نئی جہت دی اور اب یہ صرف ایک سرگرمی نہیں بلکہ مسلسل مشغولیت بن چُکا ہے۔
آج جب کوئی بچّہ موبائل فون ہاتھ میں لیتا ہے،تووہ یک لخت ہی ایک ’’ورچوئل ورلڈ‘‘ میں داخل ہوجاتا ہے، جہاں ہر لمحے ایک نیا چیلنج، نیا انعام اور نئی کشش موجود ہے۔ ہر لیول مکمل کرنے پراُسے وقتی خوشی ملتی ہے، جو اُسے دوبارہ اُسی دُنیا کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر گھروں میں یہ منظرعام ہے کہ بچّہ خاموشی سے ایک کونےمیں بیٹھا موبائل فون یا ٹیبلیٹ پر کوئی ویڈیو گیم کھیل رہا ہوتا ہے اور والدین اس خاموشی کو سکون سمجھتے ہیں۔
اُنہیں لگتا ہے کہ بچّہ مصروف ہے، کسی کو تنگ نہیں کررہا اور گھر میں شورشرابا نہیں ہے، تو سب کچھ ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے اور یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے۔ آج ویڈیو گیمز اس انداز سے ڈیزائن کیے جا رہے ہیں کہ ان کے کھیلنے سے دماغ میں ڈوپامین کا اخراج بڑھتا ہے۔ یہ وہ کیمیکل ہے، جو خوشی اور انعام ک احساس سے جُڑا ہوتا ہے مگر جب یہ عمل بار بار دُہرایا جائے، تو دماغ اسی پر انحصار کرنے لگتا ہے۔
نتیجتاً، گلی میں کھیلنا کُودنا، دوستوں سے باتیں کرنا یا خاندان کے ساتھ وقت گزارنا کم پُر کشش محسوس ہونے لگتا ہے اور یہی وہ مقام ہے، جہاں ویڈیو گیمز کھیلنا عادت سے بڑھ کر ایک لت کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے۔ پلے اسٹیشنز اور جدید ویڈیو گیمز اس رجحان کو مزید پروان چڑھاتے ہیں۔
ان ویڈیو گیمز کے حقیقت سے قریب تر گرافکس اور مسلسل بدلتے چیلنجز بچّے کو ایک ایسی دُنیا میں لے جاتے ہیں، جہاں وہ خُود کو ہیرو محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ ایک مصنوعی کام یابی ہوتی ہے، جو وقتی طور پر تو اسے بہت پُر کشش لگتی ہے مگر آہستہ آہستہ حقیقی زندگی سے فاصلے بڑھا دیتی ہے۔
انٹرنیٹ، موبائل فونز اور ٹیبلیٹس نے اس مسئلے کو مزید گمبھیر کر دیا ہے، کیوں کہ اب بچّوں کو یہ ویڈیو گیمز ہمہ وقت اور ہر جگہ دست یاب ہیں، حتیٰ کہ اب بچّے اپنی پُرسکون نیند کی، جو صحت کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہے، قربانی دے کر رات گئے تک اسکرین سے جُڑے رہتے ہیں اور یہ منفی عادت نہ صرف ذہنی بلکہ جسمانی طور پر بھی نقصان دہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بچّوں میں بینائی کی کم زوری، نیند کی کمی، سُستی و کاہلی اور موٹاپے جیسے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں، مگر اس کے سب سے زیادہ تشویش ناک اثرات بچّوں کی نفسیات پر مرتّب ہو رہے ہیں۔
مثال کے طور پر ویڈیوگیمز کی لت کا شکار بچّہ چڑچڑا ہوجاتا ہے، اُسے کسی ایک کام پر توجّہ مرکوز کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور بعض اوقات وہ حقیقی دُنیا سے جذباتی طور پر کٹنے لگتا ہے، جب کہ بعض بچّوں میں یہ کیفیات اس حد تک شدّت اختیار کرجاتی ہیں کہ وہ اسکرین کے بغیر بے چین ہوجاتے ہیں۔ یعنی ویڈیو گیمز اُن کے لیے محض تفریح نہیں بلکہ ضرورت بن جاتے ہیں اور یہ ’’گیمنگ ایڈکشن‘‘ یا ویڈیو گیمز کی لَت کی واضح علامت ہےاور اس مسئلے کو کسی طور نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔
گرچہ بچّہ ویڈیوگیمز کھیلتے ہوئے بظاہر محفوظ و مطمئن نظر آتا ہے، مگر درحقیقت وہ حقیقی دُنیا سے دُور ہوتا جاتا ہے۔ اس ضمن میں یہ کہنا بھی دُرست نہیں کہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی ہے بلکہ اصل مسئلہ موبائل فونز اور ٹیبلیٹس کا بے تحاشا استعمال ہے۔ ویڈیوگیمز کھیلنے کا محدود اور مختصر دورانیہ ذہنی صلاحیتوں اور استعداد میں اضافہ کرتا ہے، مگر اس ضمن میں حد سے تجاوز ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بنتا ہے۔
اس مسئلے سے بچاؤ اور نجات کے لیے شعور وآگہی اور توازن کی ضرورت ہے۔ تاہم، سب سے پہلے والدین کو اس مسئلے کی نوعیت کو سمجھنا ہوگا۔ یاد رہے، ’’اسکرین ایڈکشن‘‘ ہر عُمر کے افرادمیں ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جو شخصیت کو بُری طرح متاثر کرتا ہے اور بالخصوص بچّوں کو اس لت سے بچانے کے لیے اسکرین ٹائمنگ کی واضح حدود مقرّرکرنا ضروری ہیں اور اس کے ساتھ ہی بچّوں کو متبادل سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا بھی لازمی ہے، جن میں گھر سے باہر نکل کر دوستوں کے ساتھ کھیلنا کُودنا، کتابیں پڑھنا، سائیکل چلانا یا تخلیقی سرگرمیاں شامل ہیں۔
اس ضمن میں گھرکا ماحول بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر گھر کا ہر فرد ہی بیش تر وقت موبائل فون پر مصروف رہتاہے،تو پھر بچّےسےاسکرین سے دُور رہنے کی توقّع رکھنا عبث ہے۔ اہلِ خانہ کا ایک دوسرے کو وقت دینا، آپس میں گفتگو کرنا اور مشترکہ سرگرمیوں میں حصّہ لینا بچّے کو اسکرین سے دُورکرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج دُنیا بَھر میں ’’ڈیجیٹل ڈی ٹاکسنگ‘‘ (ڈیجیٹل آلات سے عارضی دُوری) کا تصوّر اپنایا جا رہا ہے، جس کے تحت ہفتے میں کچھ وقت اسکرین سے مکمل طور پر دُور رہ کر گزارا جاتا ہے۔ اس اقدام سےبچّوں میں بھی یہ احساس پیدا ہوتا ہےکہ زندگی صرف موبائل فون تک محدود نہیں، بلکہ اصل زندگی اسکرین سے باہر کی دُنیا ہے۔ اسی طرح والدین کو اپنے بچّوں کو یہ سمجھانا چاہیے کہ اسکرین پر دکھائی دینے والی دُنیا حقیقی نہیں ہے، بلکہ اصل کام یابی، خوشی اور تعلقات حقیقی زندگی میں پائے جاتے ہیں۔
اب جب ہم اپنے پوتے کو پلے اسٹیشن پر مشغول دیکھتے ہیں، تو دل و دماغ میں یہ فکر، اندیشہ جنم لیتا ہے کہ آنے والے وقت میں کہیں یہ بچّہ اسکرین کا اسیر بن کر نہ رہ جائے۔ تاہم، اب بھی وقت ہے۔ ہم اپنے بچّوں کو اسکرین کی لت سے بچا سکتے ہیں۔
ہم ٹیکنالوجی کوروک نہیں سکتے مگر اس کا استعمال متوازن ضرور کرسکتے ہیں۔ قصّہ مختصر، گھگو گھوڑے سے پلے اسٹیشن تک ارتقاء کا یہ سفر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ترقّی ہمیشہ سہولت کے ساتھ مختلف چیلنجز بھی لاتی ہے اور اب یہ ہم پرمنحصر ہے کہ ہم اس چیلنج کو شعور کے ساتھ قبول کرتے ہیں یا بے بسی کے ساتھ نظرانداز کردیتے ہیں۔