• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ: گزشتہ برس 10 ہزار ڈرائیورز فنی طور پر خراب گاڑیاں چلاتے ہوئے پکڑے گئے

برطانیہ میں گزشتہ برس 10 ہزار سے زائد ڈرائیور ایسی گاڑیاں چلاتے ہوئے پکڑے گئے جو سڑک پر چلانے کے لیے محفوظ نہیں تھیں۔

آر اے سی کی جانب سے ڈرائیور اینڈ وہیکل لائسنسنگ ایجنسی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر جاری کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 2025 کے دوران 10,054 ڈرائیوروں کو خراب بریک، ناقص ٹائروں، اسٹیئرنگ سمیت دیگر فنی خرابیوں والی گاڑیاں چلانے پر پینلٹی پوائنٹس دیے گئے۔

اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.055 کم رہی، تاہم آر اے سی کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ اس کمی کی وجہ گاڑیوں کی بہتر دیکھ بھال ہے یا سڑکوں پر ٹریفک آفیسرز کی تعداد میں کمی تھی۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں نقائص والی گاڑیاں چلانے کے حوالے سے اسکاٹ لینڈ سرفہرست رہا جہاں سب سے زیادہ 1,244 ڈرائیور ناقص گاڑیاں چلاتے ہوئے لوگ پکڑے گئے، اس کے بعد لندن میں 1,182، یارکشائر اینڈ دی ہمبر میں 995 اور ویسٹ مڈلینڈز میں 969 افراد کے خلاف نقائص والی گاڑیاں چلانے کے حوالے سے کارروائی کی گئی۔

برطانیہ میں ناقص گاڑی چلانے کے زیادہ تر مقدمات میں ڈرائیور کو تین پینلٹی پوائنٹس دیے جاتے ہیں، جو چار سال تک اس کے ڈرائیونگ لائسنس پر برقرار رہتے ہیں، آر اے سی کے مکینک آف دی ایئر جیک ہالسٹیڈ نے کہا کہ سڑکوں پر بڑی تعداد میں غیر محفوظ گاڑیوں کی موجودگی نہ صرف ڈرائیور بلکہ دیگر شہریوں کے لیے بھی خطرے کا باعث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گھسے ہوئے ٹائر گاڑی کی سڑک پر گرفت کم کر دیتے ہیں، بریک لگانے کے لیے درکار فاصلہ بڑھا دیتے ہیں اور ٹائر پھٹنے کے امکانات میں بھی اضافہ کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ٹائروں، بریک، اسٹیئرنگ یا کسی بھی دوسرے حصے میں مکینیکل خرابی حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید