اسلام آباد ( مہتاب حیدر، تنویز ہاشمی) ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے عمودی (Vertical) اور افقی (Horizontal) وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرثانی کرے اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم آبادی کے بجائے اخراجاتی ضروریات اور ممکنہ آمدنی کی صلاحیت کی بنیاد پر مالی مساوات (Fiscal Equalization) کے اصول کے تحت کرے۔
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اشیاء پر جی ایس ٹی بڑا چیلنج ہے، رپورٹ میں شہریوں کی زندگی بہتر نہ ہونے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا ہے جبکہ وسائل کی تقسیم کے بنیادی معیار سے آبادی کو خارج کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کا متحد نظام بنایا جائے، ورلڈ بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آماگابازار کا کہنا ہے کہ صوبوں کو 57.5 فیصد وسائل مل رہے ہیں، وسائل تعلیم وصحت کی بجائے بیشتر انتظامی نوعیت کے اقدامات پر خرچ ہورہے ہیں۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق اخراجاتی ذمہ داریوں کی تقسیم ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت سماجی خدمات اور معاشی شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں، لیکن وفاق اب بھی ان شعبوں میں سرگرم ہے، جس سے وسائل کا ضیاع اور جوابدہی کا نظام متاثر ہو رہا ہے، جبکہ بلدیاتی حکومتوں کو نہ واضح اختیارات دیے گئے ہیں اور نہ ہی مناسب مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کو وفاق کی آمدن سے 57.5 فیصد وسائل کی فراہمی ہورہی ہے، 80 فیصد اخراجات تنخواہوں، پنشن یا دیگر انتظامی معاملات پر خرچ ہورہے ہیں اور غربت کی سطح میں کمی یا عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی نہیں ہوسکی، اس سے ضلعی سطح پر اخراجات کا شیئر 10فیصد سے کم ہو کر 4.7فیصد پر آگیا۔
ورلڈ بینک نے وسائل کی تقسیم کے بنیادی معیار کے طور پر آبادی کی اہمیت کم کرنے کی بھی حمایت کی اور کہا کہ صوبوں کے درمیان حقیقی مالی توازن قائم کرنے کے لیے فِسکل ایکولائزیشن کا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
بینک نے اشیاء اور خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) کے مختلف نظام کو ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے تجویز دی کہ جی ایس ٹی کی وصولی کا ایک متحدہ نظام قائم کیا جائے اور بعد ازاں حاصل ہونے والی رقم متفقہ فارمولے کے تحت صوبوں میں تقسیم کی جائے، تاہم اس کے لیے قانون سازی درکار ہوگی۔