تہران /دوحا(اے ایف پی /نیوزڈیسک ) قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ دوحا میں امریکا اور ایران کے مابین بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے ‘فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اگلی میٹنگ ایران کے سابق سپریم لیڈرشہیدآیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد جلد از جلد ممکنہ وقت پر طے کی جائے گی جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بحرین میں امریکا کی سربراہی میں ہونے والے سکیورٹی مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اسے نمائشی پینترا بازی قراردیا ‘ وزیرخارجہ عباس عراقچی نے بھی فوجی مذاکرات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ بیرونی طاقتیں خود اپنا تحفظ بھی نہیں کر سکتیں‘خطے میں امن صرف اسی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے جب یہ جامع اور ہمہ گیر ہو اور اس میں کوئی بیرونی مداخلت نہ ہوجبکہ ایران کے نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آباد کے مطابق امریکا کی فوجی چھتری تلے امن نہیں آئے گا‘ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے سے گزرنے والے جہاز تہران کے مقررہ راستے پر ہی سفر کریں ورنہ ان کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے‘ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کا ایرانی مسلح افواج کی جانب سے فیصلہ کن اور فوری جواب دیا جائے گا‘آبنائے ہرمز امریکا کے کھیلنے کی جگہ نہیں ہے‘امریکا ‘اسرائیل اور ان کے علاقائی سہولت کسی بھی دھمکی یا جارحیت سے پہلے دو بار سوچ لیں کیوں کہ ہماراجواب شدید ہوگا جبکہ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی واضح اور متعین مقصد کے بغیر ایران میں فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔صدر ٹرمپ ہماری فوج کو دوبارہ وہاں بھیجنے کے خواہشمند نہیں ہیں جب تک کہ ایسا کرنا ناگزیر نہ ہو جائے تاہم انہوںنے خبردار کیا کہ ایرانی جوہری پروگرام کی بحالی یا تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش واشنگٹن کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔