کراچی (رفیق مانگٹ) برطانوی جریدے کا کہنا ہے ترکیہ اسرائیل میں بڑھتی کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی نئی بڑی رقابت ابھرنے لگی، تل ابیب کو شام میں ترکیہ کی بڑھتی موجودگی اور مصر، پاکستان و سعودیہ کیساتھ دفاعی تعلقات پر تشویش، اسرائیل کا آرمینیائی نسل کشی تسلیم کرنا کشیدگی بڑھانے کا سبب، اسرائیلی سیاست دان ترکیہ کا نام ایران کیساتھ لیتے ہیں۔ انقرہ کوایف-35 طیاروں کی فروخت کا معاملہ، صدر ٹرمپ کے ممکنہ فیصلے نے اسرائیل کو مزید پریشان کر دیا۔ اکانومسٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی ایک نئی بڑی علاقائی رقابت کی شکل اختیار کر رہی ہے جہاں دونوں ممالک اب ایک دوسرے کو براہِ راست سیکیورٹی خطرہ سمجھنے لگے ہیں-اسرائیلی سیاست دان ترکیہ کا نام ایران کے ساتھ ایک سانس میں لیتے ہیں-2023 کی غزہ جنگ کے بعد بیان بازی میں شدت آئی،ایک اسرائیلی وزیر نے دعویٰ کیا کہ ترکیہ نے شام کے ساتھ مل کر ایران کی جگہ لے لی ہے اور وہ اس کے ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گیا ہے۔