پشاور(جنگ نیوز) ایم پی اے و سینئر نائب صدر، پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ خیبرپختونخوا، نیلوفر بابرنے چترال سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن میں مجوزہ ٹیکس نفاذ کے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل ملاکنڈ ڈویژن اور ضم شدہ اضلاع کے زمینی حقائق سے متصادم اور ریاست سوات کے الحاق کے وقت ہونے والے معاہدے کے بھی خلاف ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ماضی کے وعدوں کو یقینی بنائے جبکہ زبردستی ٹیکس لینے کی بجائے عوام کا پہلے اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان علاقوں کو ترقی، سرمایہ کاری، بنیادی سہولیات اور معاشی لحاظ سے ملک کے دیگر حصوں کے برابر لایا جائے، اس کے بعد وہاں کے عوام بھی دیگر صوبوں کی طرح ٹیکس ادا کریں گے۔ ایم پی اے نیلوفر بابر کا کہنا تھا کہ ایک طرف خیبر پختونخوا کے آئینی و مالی حقوق نہیں مل رہے تو دوسری طرف صوبائی حکومت بھی صوبے کے حقوق کیلئے موثرکردار کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔