• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رینجرز پر حملہ، کالعدم جماعت کے کمانڈرز عمر قاری سمیت 6 دہشتگرد ماسٹر مائنڈ قرار

کراچی( ثاقب صغیر )گلستان جوہر میں رینجرز کی ٹرانسپورٹ کمپنی پر حملے اور دھماکہ کے مقدمہ میں پولیس نے کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز عمر قاری سمیت 6دہشتگردوں کو حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیدیا۔مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں رینجرز کے سب انسپکٹر اسد محمود خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔مقدمہ میں دہشت گردی ، قتل ، اقدام قتل ، سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے ،غیر قانونی اسلحہ و دھماکا خیز مواد کے استعمال ،برآمدگی ، دہشت گردانہ سازش ، اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔مقدمہ کے مطابق27جون 2026 کو رات 8بجکر10منٹ پر رینجرز ورکشاپ کمپنی کے ٹی سی بلڈنگ گلستان جوہر کے گیٹ پر ایک دہشتگرد نے رینجرز جوانوں کے سامنے اپنے آپ کو بارودی مواد ( خودکش دھماکے ) سے اڑا دیا جس کے نیتجے میں گیٹ پر ڈیوٹی پر موجود تین رینجرز اہلکار حوالدار ریاض ، سپاہی داؤد پرویز اور سپاہی عبدالقدیر شہید ہو گئے۔ہم ان کی طرف بڑھ رہے تھے کہ تین مسلح دہشت گرد خود کار ہتھیاروں سے لیس دھماکے والی جگہ سے اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور ہینڈ گرینیڈ سے دھماکے کیے۔اسی اثناء میں اسپیشل فورس اور کیو آر ایف بھی پہنچ گئی ۔فورس اور رینجرز اہلکاروں کی فائرنگ سے دو دہشت گرد مارے گئے اور ایک دہشت گرد زخمی ہوا جسے رینجرز اہلکاروں نے پکڑ لیا۔اس دوران پولیس کی نفری بھی پہنچ گئی اور زخمی دہشت گرد کو گرفتار کیا جس نے اپنا نام عثمان علی بتایا۔گردفتار دہشت گرد نے اپنے ہلاک ساتھیوں کے نام عمر ، عبدالہادی اور خودکش کا نام جانان بتایا۔ملزمان سے بھاری مقدار میں اسلحہ، ہینڈ گرنیڈ اور ایمونیشن برآمد کیا گیا۔آپریشن میں سرکاری املاک اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا اور چار رینجرز اہلکار زخمی ہوئے جنھیں اسپتال منتقل کیا گیا۔گرفتار دہشت گرد نے انکشاف کیا کہ اس کا تعلق جلال آباد افغانستان سے ہے اور وہ اپنے ساتھیوں جانان ( افغان شہری ) ، عمر ( افغان شہری ) اور عبدالہادی ( باجوڑ پاکستان کا شہری جو کہ عرصہ دراز سے افغانستان میں دہشت گرد تنظیم کا حصہ ہے ) کے ہمراہ حملے سے ایک ہفتہ قبل کراچی آیا تھا جہاں انہوں نے مقامی سہولت کاروں کی مدد سے کورنگی میں عارضی رہائش گاہ پر قیام کیا اور اس دوران رینجرز ورکشاپ کی ریکی کی۔چاروں دہشت گردوں کا تعلق افغانستان میں موجود کلعدم جماعت الاحرار سے ہے جس کی کمانڈرز عمر قاری، مولوی احرار اور عبدالواجد کی طرف سے انھیں رینجرز اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملہ کرنے کی غرض سے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پاکستان بھیجا گیا تھا۔انھیں افغانستان میں موجود کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز ملا طاہر افغانی، ملا عبدالمنان اور عمر آفریدی نے اس حملے کے لیے باقاعدہ دہشت گردی کی تربیت دی۔حملے کے حوالے سے درج دیگر چار مقدمات پولیس افسر کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید