غزل کے تناظر میں
مولف: صائمہ ممتاز
صفحات: 256، قیمت: 2000روپے
ناشر: اردو سخن، اردو بازار، چوک اعظم، لیہ۔
فون نمبر: 7844094 - 0302
شبّیر ناقد افقِ ادب پر ایک روشن ستارے کی مانند جگمگا رہے ہیں۔ اُن کی بے شمار کتابیں شائع ہوچُکی ہیں اور اُن پر ہم اِتنا لکھ چُکے ہیں کہ سمجھیں، ذخیرۂ الفاظ ختم ہوگیا، لیکن اُن کا کام اِتنا زیادہ ہے کہ اُن پر لکھنے کے لیے ’’لغات‘‘ کا سہارا لینا پڑے، تو لے لینا چاہیے۔ اور یہ تعلّی نہیں، حقیقت ہے۔
زیرِ نظر کتاب کی مرتّبہ، صائمہ ممتاز کے تاحال50 سے زائد تحقیقی و تنقیدی مضامین مُلک کے مؤقر جرائد و اخبارات میں شائع ہوچُکے ہیں، جب کہ زیرِ نظر کتاب اُن کا دوسرا کارنامہ ہے کہ اِس سے قبل وہ ایک کتاب’’ شبّیر ناقد کا جہانِ تعلیمات‘‘ کے عنوان سے بھی شائع کروا چُکی ہیں۔ یہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔
پہلے باب میں شبّیر ناقد کے احوال، دوسرے میں فرہنگ نویسی کی روایت اور تیسرے باب میں فرہنگ کلیاتِ شبیر ناقد شامل ہے۔’’فرہنگ‘‘ کے حوالے سے ڈاکٹر شفیق الرحمان الٰہ آبادی کی سطور ملاحظہ فرمائیں۔’’اردو میں ادبی یا شعری فراہنگ کی روایت موجود ہے، ان میں کسی متن سے الفاظ منتخب کرکے ان کے معنی یا ماخذ لغات کی مدد سے درج کردیئے جاتے ہیں۔ عہدِ حاضر میں جن شعرائے کرام کی فراہنگ مرتّب کی گئی ہیں، اُن میں فیض احمد فیض، ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، ن، م راشد اور احمد مشتاق وغیرہ شامل ہیں۔‘‘