اسلام آ باد ( نیوز رپورٹر)پاکستان اور ترکیہ نے باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے دو طرفہ تجارت ، اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ترکیہ کو یک جان دو قالب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر طیب اردوان کے ساتھ جامع اور تعمیری بات چیت ہوئی، پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے جبکہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے عالمی امن کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا نے اس سے سکھ کا سانس لیا، اسرائیل کو امن معاہدہ سبوتاژ کرنے نہیں دینگے، ترکیہ امن اور خوشحالی کیلئے کوششوں کی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گا۔ ہفتہ کو استنبول میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس خطاب کیا۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے سرمایہ کاروں سے ملاقات کی اور انہیں توانائی، آبی ذخائر، زراعت، خصوصی اقتصادی زونز، کانکنی ومعدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی ،مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر سے ملاقات کے بعد ایکس پر بیان میں کہا کہ ترکیہ کے صدر کیساتھ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، روابط، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی سطح پر تعلقات سمیت پا کستان ۔ ترکیہ اسٹرٹیجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں پر بات چیت ہوئی۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ شاندار استقبال اور بھرپور میزبانی پرصدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک شاندار تاریخ ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی ٹو بی فورم میں ترکیہ کی کاروباری شخصیات سے اہم نشست ہوئی۔ صدر اردوان کے ساتھ جامع اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ ہم نے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری میں اضافے پر گفتگو کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم دوطرفہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے عالمی و علاقائی تنازعات پر دونوں ممالک کے مشترکہ مؤقف اور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف رکھنے پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ صدر رجب طیب اردوان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ان کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ انہوں نے بلوچستان میں گزشتہ روز حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد امن مفاہمتی یادداشت سے پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں کاوشوں پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترکیہ نے بھی اس کیلئے اپنا تعاون فراہم کیا۔ اور خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ترکیہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور امن اور خوشحالی کے لئے کوششوں کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے امن ، ترقی اور خوشحالی کےلئے پاکستان کے اقدامات کو قابل ستائش قرار دیا۔ ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی انتظامیہ امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہی ہے اور اپنی سیاسی بقا کیلئے کشیدگی کو ہوا دی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے تجارت ، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافے سے متعلق گفتگو کی۔خصوصی اقتصادی زونز کے حوالےسے متعلقہ وزارتیں قریبی روابط جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے دفاعی تعاون، توانائی، آئی ٹی، ٹرانسپورٹیشن اور منرلز سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں ترکیہ کی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف، جو ترکیہ کے سرکاری دورے پر استنبول میں ہیںنے ہفتہ کے روز استنبول کے وحدتین محل میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سمیت دونوں ممالک کے وزراء اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے تمام شعبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، سمندر اور خشکی میں تیل و گیس کی تلاش، کان کنی و معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے باہمی طور پر طے شدہ 5 ارب امریکی ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے اہم علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ صدر رجب طیب اردوان نے ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا، جن کے نتیجے میں تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad MoU) پر دستخط ہوئے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی امن کوششوں کی بھرپور حمایت پر صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے صدر رجب طیب اردوان کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔علاوہ ازیں ہفتہ کو ا ستنبول میںپاکستان ترکیہ بزنس ٹو بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترکیہ کے سرمایہ کاروں کو توانائی، آبی ذخائر، زراعت، خصوصی اقتصادی زونز،کانکنی ومعدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی ،مصنوعی ذہانت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ۔