• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہیلتھ اتھارٹی ملتان میں کرپشن ‘ بے ضابطگیوں کے الزامات پرباقاعدہ تحقیقات کا آغاز

ملتان (سٹاف رپورٹر) ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ملتان میں مبینہ کرپشن، رشوت ستانی، جعلی دستاویزات کے ذریعے تقرری، ہراسانی اور ملازمت سے استعفیٰ لینے کیلئے دباؤ ڈالنے کے الزامات پر ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جنوبی پنجاب نے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈی ایچ اے ملتان سے تمام متعلقہ ریکارڈ اور جامع رپورٹ طلب کر لی، کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر کنول خلیل نے اپنے وکیل رانا محمد اشرف ایڈووکیٹ کے ذریعے سی سی او ہیلتھ ملتان، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ، کوآرڈی نیٹرز ہیلتھ سروسز ، خزانچی محکمہ صحت ملتان کو قانونی نوٹس بھی جاری کیا ہے اور اس کی کاپی ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب اور ایڈیشنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سمیت دیگر حکام کو بھی ارسال کی گئی، نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ افسران نے کنول خلیل سے، جو میٹرک پاس ہے،ایجنٹ کے ذریعے 7 لاکھ روپے رشوت لیاور مڈوائف کی جعلی سند و دیگر دستاویزات تیار کرا کر ملازمت دلادی مگر اب مذکورہ افسران مختلف ذرائع سے اسپر ملازمت چھوڑنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں‘ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ متعلقہ افسر ان کیخلاف شکایت کرنے پر انہیں انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا‘ نوٹس میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ تقرریوں اور دیگر انتظامی معاملات میں بے ضابطگیاں کی گئیںجب کہ شکایت کنندہ کے مطابق ان کیخلاف غیر ضروری کارروائیاں اور ذہنی دباؤ پیدا کیا گیا، اس پر کارروائی کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز جنوبی پنجاب نے سی ای او ڈی ایچ اے ملتان کو مراسلہ جاری کیا ہےجس میں تقرری کی فائل، متعلقہ ریکارڈ، دستیاب شواہد اور اب تک کی گئی کارروائی کی مکمل رپورٹ مقررہ مدت کے اندر جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ موصول ہونے والی رپورٹ کی روشنی میں مزید انکوائری اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ملتان سے مزید