اسلام آباد ( فاروق اقدس/ تجزیاتی جائزہ) برطانوی اخبار کی رپورٹ سے مودی کی عالمی مقبولیت کا بھانڈا پھوٹ گیا۔پاکستان سیاسی اور عسکری قیادت کی ہم آہنگ صلاحیتوں نے امریکہ ایران کے درمیان ہم آہنگی اور مفاہمت کے لیے دنیا بھر میں اپنی حیثیت اور کردار کو تسلیم کرایا جس سے عالمی سطح پر بھی پاکستان کا صلح و آشتی کی خواہش رکھنے والا چہرہ سامنے آیا ہے۔بھارت بغض اور حسد کے جنون میں مبتلا بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مقبولیت حاصل کرنے کے لیے ایوارڈز اور اعزازات کے حصول میں تماشہ بن گئے دنیا بھر میں تضحیک اور ملک بھر میں تنقید اور الزامات کا پنڈورا بکس کھل گیا۔ بھارت میں اس وقت سیاسی طبقات کے علاوہ مختلف شعبہ زندگی کے بیدار ذہن لوگوں میں موضوع بحث وزیراعظم نریندر مودی کی نام نہاد مقبولیت کی ساکھ عالمی سطح پر جگہ ہنسائی کا حوالہ بننے والی برطانوی اخبار دی گارڈین کی وہ خصوصی رپورٹ ہے جس میں انکی مقبولیت کا بھانڈا سیاست کے عالمی چوراہے پر پھوٹا ہے جسکی وجہ ان کے غیر ملکی دوروں کے مواقع پر انہیں ملنے والے ایوارڈ اعزازات اور تعریفی اسناد ہیں جو دی گارڈین کی رپورٹ کے بعد متنازعہ ہو گئے ہیں اور اس کا آغاز انکے حالیہ دور ہے سیشلز سے ہوا ہے۔ افریقہ کا سب سے چھوٹا اور سب سے کم آبادی والا ملک سیشلز 1976 میں برطانوی راج سے آزاد ہوا تھا چند روز قبل وزیراعظم مودی کے دور سیشلز کے موقع پر انہیں ایک ایوارڈ دیا گیا حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی آمد سے صرف تین روز قبل ہنگامی طور پر بنائے جانے والے اس ایوارڈ کے ساتھ دیے جانے والے سرٹیفیکیٹ میں منتظمین نے اپنے ملک ریپبلک آف سیشلز کے الفاظ بھی غلط لکھے تھے دی گارڈین کے مطابق اے آئی کے ڈیڈیکٹری ٹولز نے سرٹیفکیٹ کو مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا جس کے بعد متعدد ایسے ایوارڈ اور اعزازات کی تفصیل بھی اخبار نے اپنی رپورٹ میں شائع کی ہے جن کے بارے میں اب بھارت میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بھی تحفظات اور الزامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اس صورتحال کو اگر اس تناظر میں دیکھا جائے کہ ایک طرف تو اسکا وہ پڑوسی ملک جسے وہ دہشت گرد اور اس کے کروڑوں لوگوں کے لیے پانی بند کر دینے کی دھمکیاں دیتا ہے تو دوسری طرف پاکستان جوامریکہ اور ایران کے درمیان تنازعات کے آغاز سے جنگ بندی اسلام اباد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط اور پھر ہر سطح پر ہونے والے رابطوں مذاکرات اور معاہدوں میں شامل بشانہ پاکستان جس کی سیاسی اور عسکری قیادت امریکہ اور ایران دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ ایک تیسرے اہم کردار کی حیثیت میں اس سارے عمل میں موجود رہی اور یہ سلسلہ نہ صرف تاحال جاری ہے بلکہ آئندہ کی حکمت عملی اور پیشرفت میں قطر اور پاکستان کا مفاہمتی اور مشاورتی کردار بھی موجود رہے گا اس دوران امریکی اور ایرانی صدور کے علاوہ دونوں ممالک کی اہم شخصیات بھی پاکستان کے کردار کا تشکر کے جذبوں کے ساتھ اظہار کر رہے ہیں اور اعتراف بھی یقینا یہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے مابین مشاورت اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہے کہ سپر پاور اور خطے کی بڑی طاقت امریکہ اور ایران کے درمیان متوازن خارجہ پالیسی کے باعث جنگ بندی ہوئی اور معاملات میں نتیجہ خیز پیشرفت جاری ہے پھر دنیا کے اہم ممالک نے پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور یہ سلسلہ بھی تاحال جاری ہے پھر تازہ ترین حوالہ سابق ایرانی سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنائی شہید کی الوداعی تقریب میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی شرکت منتظمین اور وہاں موجود شرکا کی جانب سے پذیرائی کے مناظر بھی دنیا دیکھ رہی ہے ایسے میں ایک طرف دنیا بھر میں مقبولیت احسان مندی تشکر حکمت عملی کا اعتراف تعریف و توصیف کے مناظر اور تذکرے اور دوسری طرف ایک چھوٹے سے ملک ( سیشلز )کا دورہ اور ایک ایسا ایوارڈ جس سے عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا سلسلہ شروع ہو گیا ایک طرف مقبولیت اور صلاحیتوں کے اعتراف کا عروج اور دوسری طرف مقبولیت کی ہوس میں تماشہ جگ ہنسائی ندامت اور عوام کے لیے پشیمانی بھی پھر لگتا یہ ہے کہ یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا۔