کراچی (اسٹاف رپورٹر) پولیس نے پراسی کیوشن کے اعتراضات دور کئے بغیر ہی چالا ن تیسری بار پراسی کیوشن کو جمع کرادیا۔سانحہ گل پلازہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آگئی۔قائم مقام ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر عبدالرزاق گجر نے چالان جوجوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کردیا جس میں بتایا گیا ہے کہ مقدمے میں مارکیٹ یونین کے چار عہدیدار، دکاندار اور اسکے بیٹے کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ چالان میں پولیس، فائر بریگیڈ، متاثرین، ریسکیو 1122 اہلکاروں سمیت 60 گواہان کے نام پیش کئے۔گل پلازہ میں آگ کی شروعات دکان نمبر 192 سے ہوئی، دکان کا مالک نعمت اللہ اکثر اوقات دکان اپنے گیارہ سالہ بیٹے حذیفہ کے حوالے کرکے چلا جاتا تھا، گیارہ سالہ حذیفہ ماچس جلا کر کھیل رہا تھا جس سے مصنوعی پھولوں میں آگ لگی، سی ڈی آر رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے وقت دکاندار نعمت اللہ موقع پر موجود نہیں تھا، مارکیٹ یونین عہدیداروں کی جانب سے ایمرجنسی ہیلپ لائن پر اطلاع دیکر مدد طلب نہیں کی گئی، بروقت اطلاع نا ملنے کی وجہ سے 72 افراد جاں بحق ہوئے۔