• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

CSA، مستقبل کے سول افسران کیلئے مصنوعی ذہانت پر خصوصی تربیتی ورکشاپ

لاہور (آصف محمود بٹ) سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) نے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (سی ٹی پی) کے پروبیشنرز کیلئے مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس/اے آئی) پر دو روزہ خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد مستقبل کے سول افسران کو جدید ٹیکنالوجی سے متعلق علمی و عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں سرکاری نظم و نسق میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے مؤثر استعمال کیلئے تیار کرنا تھا۔آئی ٹی وزارت، سول سروسز اکیڈمی اور ایٹم کیمپ کا مشترکہ اقدام، قومی اے آئی پالیسی کے اہداف کے حصول کی جانب اہم پیش رفت۔ڈی جی فرحان عزیز خواجہ نے کہا کہ تمام سطحوں کے سرکاری افسران کیلئے بھی مصنوعی ذہانت کی استعداد کار بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ ورکشاپ سول سروسز اکیڈمی، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور ایٹم کیمپ (atomcamp) کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی۔ یہ اقدام وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کی قیادت میں حکومتِ پاکستان کی قومی مصنوعی ذہانت (نیشنل اے آئی پالیسی) کے اہداف کے تحت سرکاری ملازمین میں مصنوعی ذہانت کی استعداد کار بڑھانے اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو مصنوعی ذہانت کے بنیادی تصورات سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں عملی تجربہ فراہم کرنا بھی تھا۔۔ انٹرایکٹو سیشنز کے دوران شرکاء کو صرف نظریاتی معلومات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انتظامی مسائل کے عملی اور اختراعی حل تیار کرنے کی ترغیب دی گئی۔  ورکشاپ کے اختتام پر منعقدہ تقریب سے سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ نے خطاب کیا۔انہوں نے وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، ایٹم کیمپ، کامن ٹریننگ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سید شبیر اکبر زیدی اور پروبیشنرز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سب کے تعاون سے یہ اہم تربیتی اقدام کامیابی سے مکمل ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرام مختلف سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے افسران کی ذمہ داریوں اور پیشہ ورانہ ضروریات کے مطابق ترتیب دیے جا سکتے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کا استعمال ہر ادارے کی عملی ضروریات سے ہم آہنگ ہو سکے۔

اہم خبریں سے مزید