• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان باشندوں کی رٹ پٹیشنز پر مختصر حکم ، وفاقی حکومت کو زیرغور لانیکی ہدایت

پشاور(نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افغان باشندوں کی 10سے زائد رٹ پٹیشنز پر مختصر تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ان درخواستوں کو وفاقی حکومت کو ارسال کرتے ہوئے انہیں زیرغور لانے اور اس بات کا تعین کرنے کی ہدایت کی ہے کہ کیاان کی پاکستان میں پناہ یا عارضی قیام بین الاقوامی پناہ گزین قانون کے بنیادی اصول کے مطابق ہے یا نہیں۔ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ان کیسز میں درخواست گزارضروری لوازمات پر پورا اترتے ہیں تو انہیں حکومتی پالیسی کے تحت ایک عرصہ تک پناہ یا قیام کی اجازت دی جائے اور یہ پورا مرحلہ 2ماہ کے اندر اندر مکمل کیاجائے ۔جسٹس وقار احمد او رجسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دورکنی بنچ نے بریالئی میاں خیل ودیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔ اس دوران ان کے وکلاء کاشف جان ، ملک شہباز، پروفیسر نذیر احمدو اور سیف محب کاکاخیل دیگر بھی پیش ہوئے جبکہ وفاق کی طرف ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناءاللہ اورنادرا کے لاءآفیسرزعبدالروف ، محمد مبارک اور شاہد عمران گیگیانی بھی پیش ہوئے۔ رٹ درخواستوں میں موقف اختیار کیاگیاکہ افغانستان میں سابقہ پیشے، سیاسی وابستگی یا صنفی بنیادوں پر انکی جانوں کو خطرات لاحق ہونے کے باعث وہ پاکستان منتقل ہوئے۔ بیشتر درخواست گزاریواین ایچ سی آرکیساتھ بطور پناہ گزین رجسٹرڈ ہیں اور متعدد درخواست گزار بیرون ملک منتقلی سے متعلق انٹرویو و سکیورٹی کلیئرنس مکمل کر چکے جبکہ کئی کو تیسرے ممالک میں آبادکاری کی سفارش بھی کی گئی ہے۔دوسری جانب عدالت نے عدالت نے یہ بھی قراردیاکہ جب تک حکومت فیصلہ نہیں کرتی قانون نافذ کرنے والے ادارے محض قیام کی بناءپر درخواست گزاروں کوگرفتار نہ کرے نہ ہی انہیں افغانستان بھیجا جائے، اگر حکومت اس ضمن میں کوئی فیصلہ کرنے میں ناکام رہی تو پھر سیکرٹری وزارت داخلہ کو اس سلسلے میں عارضی طور پر قیام کے اجازت نامے جاری کرنے چاہیے ۔عدالت نے تمام درخواستیں نمٹا دی ہیں۔
پشاور سے مزید