تہران (اے ایف پی /نیوزڈیسک )سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہیدکی آخری رسومات کے چوتھے روز انہیں الوداع کہنے کیلئے ایران کے مقدس شہر قم میں لاکھوں سوگواروں کا ہجوم امڈ آیااورسڑکیں کھچاکھچ بھرگئیں‘ نمازجنازہ کے بعدسابق رہبراعلیٰ اور ان کے اہل خانہ کی میتیں عراقی شہر نجف پہنچادی گئیں ‘تدفین کل مشہد میں کی جائے گی ‘ادھر آبنائے ہرمز میں منگل کو عمانی ساحل کے قریب قطر کے ایک ایل این جی بردار جہاز سمیت تین ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا ہے‘قطر نےایران کو حملے کا ذمہ دار قراردیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے اور ایرانی نائب سفیر کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ حوالے کیاہے جبکہ ریاض نے بھی ایران پر آبنائے ہرمز میں سعودی ٹینکر کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے ‘ دوسری جانب ایران نےقطر کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ان دعووں کو حیران کن قرار دیا ہے‘ ہرمز میں حملوں کے بعد امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت پر دوبارہ پابندی عائد کرتے ہوئے نئےفضائی حملے شروع کردیئے ہیں‘ ایرانی میڈیا کے مطابق سریک ‘بندرعباس اورقشم جزیرے پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ۔سینٹرل کمانڈسے جاری بیان کے مطابق حملے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ ایران کی یہ کھلی جارحیت بلا جواز، خطرناک اور جنگ بندی کی واضح خلاف ورزی تھی۔امریکی حکام کے مطابق ہرمز میں ایران کے اقدامات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور ان کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے زوردیاہے کہ ہرمز سے محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے جہاز رانی قوانین کی پاسداری یقینی بنائی جائے ‘ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہوکا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بحری فوج جہاز رانی کی گزرگاہوں کے تحفظ اور بحری تجارت کی آزادی کو یقینی بنائے گی۔وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ جاری رہا تو حتمی معاہدے سے متعلق مذاکرات شروع نہیں ہوں گے‘اپنے دستخط کا پاس رکھیں‘ایران کے عوام اور مسلح افواج دھمکیوں سے مرعوب ہونے والے نہیںجبکہ ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن علاء الدین بروجردی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی بھی اقدام اٹھایا گیا تو اس کا نتیجہ ناکامی ہوگا‘اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کرے گا۔تفصیلات کے مطابق برطانوی بحری سکیورٹی ایجنسی کا کہنا ہے کہ رات گئے ایک نامعلوم گولے نے ایک ٹینکر کو نشانہ بنایا جس سے وہاں آگ لگ گئی، جس کے بعد مزید دو جہازوں پر حملے کیے گئے جن میں سے کم از کم ایک حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔