کراچی( سید محمد عسکری) شاہ عبداللطیف یونیورسٹی، خیرپور نے بدعنوانی کو ختم کرنے اور شفافیت و احتساب کو برقرار رکھنے اپنے ملحقہ لاء کالجوں کی 1200سو سے زائد ایل ایل بی کی مشتبہ اسناد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ملک کے نامور قانوں دان بھی شامل ہیں اور ان کی باقاعدہ اسناد کی منسوخی کا عوامی نوٹس بھی جاری کیا جارہا ہے۔ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے اس اقدام کو جامعہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اعلیٰ تعلیم کے نظام میں قانون کی بالادستی، احتساب اور ادارہ جاتی اصلاحات کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ زرائع نے جنگ کو بتایا کہ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف خشک کی قیادت میں سینئر پروفیسرز اور سینئر افسران پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم نے گزشتہ دو برس کے دوران جامعہ میں شفافیت، احتساب، قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے متعدد مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ انہی مسلسل اور منظم کوششوں کے نتیجے میں ریکارڈ کی جامع جانچ، قانونی تقاضوں کی تکمیل اور سنڈیکیٹ کے فیصلوں کی روشنی میں یہ تاریخی کارروائی اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئی، جس کے بعد یہ معاملہ سنڈیکیٹ کے 92ویں اجلاس میں منظور کیا گیا۔ فیصلوں کی روشنی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے یونیورسٹی اور متعلقہ ملحقہ لاء کالجوں کے ریکارڈ کی تفصیلی جانچ، تصدیق اور موازنہ مکمل کیا۔ تحقیقات کے دوران مشتبہ ریکارڈز کی نشاندہی کی گئی جبکہ متعدد متعلقہ کالجوں نے بھی ایسے اندراجات سے لاتعلقی ظاہر کی۔ سنڈیکیٹ کی منظوری سے اسناد کی منسوخی کی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔ یہ موجودہ انتظامیہ کی اصلاحاتی مہم کا تیسرا بڑا مرحلہ ہے۔ پہلے مرحلے میں مبینہ جعلی ریکارڈ کے معاملات پر 128 افراد کے خلاف ایف آئی آرز درج کرائی گئیں۔