پشاور (نیوز رپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نےخیبر پختونخوا کے محکمہ صحت میں ڈاکٹر اور نرسز کی بھرتیوں کے عمل کیخلاف دائر رٹ درخواست پر صوبائی حکومت کو بھرتی کے عمل پرحتمی فیصلے سے روکتے ہوئے صوبائی حکومت اور سیکرٹری ہیلتھ سے دو ہفتے کے اندر جواب طلب کرلیا۔ رٹ پٹیشن کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل منظور بشیر ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ محکمہ صحت میں میڈیکل آفیسرز، ڈینٹل سرجنز اور نرسز کی فکسڈ پے پر بھرتیوں کے عمل میں مبینہ بے قاعدگیاں کی گئی ہیں سکروٹنی اور سلیکشن کمیٹیوں میں غیر متعلقہ افراد کو شامل کیا گیا ہے کمیٹیوں میں کمشنرز اور دیگر غیر متعلقہ افراد کو شامل کیا گیا ہے ،سکروٹنی اور سلیکشن کمیٹیوں کی تشکیل فکسڈ پے 2022رولز کے منافی ہے۔انہوں نے بتایاکہ حکومت نے جن قواعد کا حوالہ دے کر کمیٹیاں بنائیں وہ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ بھرتی کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے اور صوبے بھر میں امیدواروں کے انٹرویو اور مارکس دینے کا کوئی یکساں معیار نہیں ہے ایسے امیدواروں کو بھی منتخب کیا گیا جو اشتہار کے مطابق اہلیت کے معیار پر پورا نہیں اترتے تھے۔