پشاور (نیوز رپورٹر، لیڈی رپورٹر) پشاور کے علاقے فقیر کلے میںبچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے مبینہ طور پر انکار پر اسسٹنٹ ایڈیشنل کمشنرکے محافظوں اورگھروالوں کے درمیان ہاتھاپائی ہوگئی، اس دوران شہری کوپکڑکر زبردستی گاڑی میں بٹھانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور عوامی حلقوں نے اسے افسرشاہی کی جانب سے ظلم اوراختیارات کاناجائز استعمال قراردیا تاہم ضلعی انتظامیہ نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔ متاثرہ خاندان نے موقف اختیار کیا ہے کہ پولیو ٹیم کو بتایاگیاکہ بچے رشتہ داروں کے گھر گئے ہیں جس پر تلخ کلامی کے بعداسسٹنٹ ایڈیشنل کمشنر شاہ عالم کے گنرزنے شوکت اور سعید کومبینہ تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں زبردستی ڈبل کیبن گاڑیوں میں ڈالا گیا جبکہ خاتون کی جانب سے ویڈیو بنانے پر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر محمد الیاس پولیو ٹیم کے ہمراہ سرکاری ڈیوٹی پر موجود تھے تاہم عبدالسعید کاخاندان گزشتہ کئی پولیو مہمات سے مسلسل بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار ی تھے۔ اے اے سی نے عبدالسعید کے بہنوئی شوکت کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تاہم اس نے انکار کرتے ہوئے مبینہ طو رپر سرکاری اہلکاروں سے بدتمیزی کی اور ایک گنر سے سرکاری رائفل چھیننے کی کوشش کی ۔ترجمان کے مطابق عبدالسعید کی اہلیہ نے بھی جھگڑے کے دوران گنر کومبینہ طورپرتھپڑ مارا۔ملزم شوکت کو قانونی کارروائی کےلئے گرفتار کر کے پولیس پوسٹ پجگی منتقل کر دیا گیا۔