دانیال حسن چغتائی، کہروڑپکا، لودھراں
انیسویں صدی کے اواخر میں جب انٹرنیٹ نے انسانی دنیا میں قدم رکھا، تو اسے’’ معلومات کی شاہ راہ‘‘ قرار دیا گیا۔ تین دہائیاں گزرنے کے بعد اب یہ شاہ راہ زندگی کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے، لیکن کسی بھی شے کا غیر ضروری استعمال ہمیشہ مُضر اور تباہ کُن ہی ثابت ہوتا ہے اور انٹرنیٹ کے ضمن میں یہ معاملہ اب ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔
انٹرنیٹ نے جہاں دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کیا، وہیں اِس کے بے لگام استعمال نے انسانی صحت، سماجی رویّوں اور ذہنی سکون کو بھی بُری طرح متاثر کیا۔ بالخصوص سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ذہنی امراض کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق، انٹرنیٹ ایڈکشن ڈس آرڈر (IAD) اب ایک تسلیم شدہ طبی مسئلہ بن چکا ہے۔ جب ایک انسان گھنٹوں فیس بُک، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک پر دوسروں کی مصنوعی، بے حد چمک دمک والی زندگی دیکھتا ہے، تو اس کے اندر احساسِ کم تری جنم لیتا ہے۔ ہر لائیک اور کمنٹ انسانی دماغ میں عارضی خوشی دینے والا ہارمون ’’ڈوپامین‘‘ خارج کرتا ہے اور اس خوشی کی لت منشیات کی لت جیسی ہی خطرناک ہے، جس نے انسان کو حقیقی دنیا سے کاٹ کر اسکرین کا اسیر بنادیا ہے۔
نیند کی کمی اور ہمہ وقت آن لائن رہنے سے فرد چڑچڑا اور ذہنی طور پر مفلوج ہوتا جارہا ہے۔ طبّی ماہرین کے مطابق، انٹرنیٹ کا مسلسل استعمال محض ایک ذہنی مشغلہ نہیں، یہ غیرمرئی طور پر اندر ہی اندر جسمانی ڈھانچے کو کھوکھلا کررہا ہے۔ واضح رہے، اسکرین سے نکلنے والی روشنی آنکھوں کے ریٹینا کو نقصان پہنچاتی ہے، جس سے بینائی بتدریج قبل از وقت کم زور ہوتی چلی جاتی ہے۔
گھنٹوں ایک جگہ بیٹھ کر مسلسل اسکرین دیکھنے سے موٹاپا، ذیابطیس اور گردن، ریڑھ کی ہڈی کے مسائل عام ہو رہے ہیں۔ ’’ٹیکسٹ نیک سینڈروم‘‘ جیسی اصطلاحات اب عام ہیں، جو گردن کے مُہروں کی تکلیف ظاہر کرتی ہیں۔ نیز، رات گئے تک انٹرنیٹ کے استعمال نے انسانی جسم کا قدرتی کلاک بھی بگاڑ کے رکھ دیا ہے، جس سے مدافعتی نظام کم زور سےکم زورتر ہوتا جارہا ہے۔
یہ ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولتٖ نے ہمیں دُور بیٹھے لوگوں سے تو جوڑ دیا، لیکن پاس بیٹھے اپنوں سے دُور کر دیا ہے۔ آج دسترخوان پر بیٹھے چار افراد ایک دوسرے سے باہم گفتگو کے بجائے اپنے اپنے فونز میں مگن نظر آتے ہیں اور ہم ڈیجیٹل طور پر کنیکٹڈ تو ہو کے بھی جذباتی طور پر تنہائی کا شکار ہیں کہ ورچوئل دنیا کے ہزاروں دوست، حقیقی زندگی کے ایک مخلص دوست کا نعم البدل نہیں ہوسکتے۔
میاں بیوی کے درمیان بات چیت کی کمی، بچّوں پر والدین اور بوڑھے والدین پر اولاد کی عدم توجّہی، سب انٹرنیٹ کا شاخسانہ ہے۔ بچّے میدانوں میں کھیلنے کے بجائے آن لائن گیمز میں پناہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں، نتیجتاً سماجی تربیت اُدھوری رہ جاتی ہے۔
ماناکہ انٹرنیٹ کی دنیا علم کا سمندر ہے، مگر ساتھ ہی یہ غلاظت اور جرائم کا گڑھ بھی بن چکی ہے،جب کہ اس تک آسان رسائی نے بچّوں، نوجوانوں کو ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے، جو اخلاقی اقدار اور کردار سازی کے لیے زہرِ قاتل کے مثل ہے۔ سوشل میڈیا ہراسانی، بلیک میلنگ اور ڈیٹا چوری تو گویا معمول بن چکی ہے۔یہاں تک کہ بہت سے نوجوان ان جرائم کا شکار ہو کر خودکُشی جیسا انتہائی قدم اٹھالیتے ہیں۔
جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ نے معاشرے میں عدم برداشت اور نفرت کو فروغ دیا ہے، جس سے امن و امان کے مسائل روز افزوں پیدا ہورہے ہیں۔ پھر وقت وہ گراں قدر سرمایہ ہے، جو ایک بار ضائع ہوجائے تو میسّر نہیں آتا۔ ایک اندازے کے مطابق، ہم روزانہ اوسطاً 6سے 7گھنٹے انٹرنیٹ پر گزار رہے ہیں۔ تو ذرا سوچیں، ہم اپنی زندگی کے کتنے قیمتی ماہ وسال محض اسکرولنگ کی نذر کررہے ہیں، نتیجتاً تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ رہی ہیں کہ ہم اب سوچنے کے بجائے دیکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
کتب بینی کا شوق ختم اور مطالعہ، جو علمی ترقی کی بنیاد ہے، محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے اس دَور میں انٹرنیٹ کو مکمل طور پر ترک کرنا ممکن نہیں ، نہ ہی یہ دانش مندی ہے، کیوں کہ جدید دَور کی معیشت و تعلیم کا انحصار اسی پر ہے۔ لیکن ہم اس کے استعمال کو محدود کرکے اور محض مثبت استعمال کو فروغ دے کر اس کے مضرات سے بہت حد تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ کتابوں، جسمانی سرگرمیوں اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دیں۔ بچّوں کواس کے غیر ضروری استعمال سے دور رکھتے ہوئے فطرت کے قریب لائیں، نیز،ان کی آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں۔
یاد رکھیں، ہم انٹرنیٹ کے مثبت اور اپنی ضرورت کے مطابق استعمال سے اسے تعمیر و ترقی، کام یابی و کام رانی کا زینہ بناسکتے ہیں، تو اس کا بے جا، بے محابا استعمال تباہی و بربادی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔