• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتب: محمّد ہمایوں ظفر

میرے  لختِ جگرکا لختِ جگر، میرا پیارا پوتا! آج نظروں سے اوجھل سہی، لیکن میری دھڑکنوں اور یادوں میں اب بھی مکمل طور پر آباد ہے۔ مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتا، جس روز وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملا اور وہ قیامت خیز دن مجھ سے کبھی فراموش ہوگا بھی نہیں۔ ہم سب نے لاکھ جتن کیے، لیکن وہ جاں بر نہ ہوسکا اور زندگی کی بازی ہارکر اللہ عزّوجل پاس چلا گیا۔

ہم مکمل صبر اور رضا کے ساتھ اس اٹل حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ خالقِ کائنات کی عطا کردہ امانت، اپنے اصل کی طرف لوٹ چکی ہے۔ میرا ننھا منّا پوتا دنیا جہان میں مجھے سب سے پیارا تھا، وہ اپنی مسکراہٹوں کی شگفتگی اور شوخیوں، شرارتوں کی رعنائی سے ہر دل میں گھر کر لیتا تھا۔ آج اس کی معصوم شرارتیں یاد آتی ہیں تو دل مسوس کر رہ جاتی ہوں۔

مجھے یاد ہے، وہ رات دیر تک میرے پاس ہی رہتا، بہت دیر ہوجانے پر اس کی امّی اور ابو جان اپنے کمرے میں لے جانے کی کوشش کرتے، مگر وہ میرے کمرے سے جانے پر کسی طرح تیار ہی نہیں ہوتا۔ اس کی امّی بار بار لینے آتیں، پھر ہار جاتیں، اس کے ابو زبردستی لے کر جاتے، تو مچل جاتا۔ بڑی مشکلوں سے اس کے امّی ابو اُسے اپنے کمرے میں لے جاتے، لیکن صبح اُٹھتے ہی میرے پاس آجاتا۔ اس کی امی کہتی تھیں کہ ’’پہلے آپ کو سلامی دینے آتا ہے۔‘‘

انتہائی کم سنی میں بھلا کون سا ایسا کارنامہ تھا، جو اُس نے سرانجام نہ دیا ہو؟ سیڑھیاں ایسے برق رفتاری سے چڑھتا کہ بڑوں کے قدم بھی ڈگمگا جاتے اور وہ ہانپتے رہ جاتے۔ تپتی دھوپ میں ننگے پاؤں نکل جاتا اور پھر تلوے جلنے پر بلک بلک کر روتا، ٹُول باکس کو سنبھال سنبھال کر رکھتا۔ نلکے سے لے کر دروازوں کے لاک تک، ہر چیز پر اپنی انجینئرنگ کے جوہر دکھانا اس کا محبوب مشغلہ تھا، مگر سوئچ بورڈ کے بٹنز سے اسے وحشت ہوتی تھی، معصوم شرارتوں کے نتیجے میں لگنے والی چوٹوں پر پیار کا ایک انوکھا سا احساس جاگتا تھا۔

ہمیں سب سے زیادہ خوف چولھے کا رہتا، کیوں کہ کرسی پر چڑھ کر ہر بلند و بالا مقام تک رسائی حاصل کر لینا اس کے لیے معمول کی بات تھی۔ مجھے یاد ہے ، ایک بار میں عمرے سے واپسی پر لڑکوں کے لیے گھڑیاں اور لڑکیوں کے لیے اسکارف لائی۔ اسے گھڑی سے تو کوئی سروکار نہ تھا، مگر بہنوں کو ملنے والے اسکارف لیے لیے پھرتا رہا۔

اس کی معصوم اداؤں پر میں بے اختیار اس کی بلائیں لے لیتی، لیکن اس کی گہما گہمی جاری ہی تھی کہ اچانک ہی بچھڑنے کا سانحہ پیش آگیا۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ اپنی معصوم ہنسی اور شرارتوں سے سب کو ہنسانے والا اچانک ہی عیدالاضحی سے چند روز قبل ہم سب کو ہمیشہ کی جدائی دے کر اللہ تعالیٰ کے پاس پہنچ جائے گا۔

میری جان! مجھے یقین ہے کہ عید الاضحی پر تم نے جنّت کا لباس پہنا ہوگا، لیکن یہاں ہینگر پر ابھی تک تمہارا سوٹ لٹکا ہوا ہے۔ سال بیت چکا ہے، مگر میرے پیارے پوتے! ہم سب تمہیں اب بھی بہت شدّت سے یاد کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ تم تو جنّت میں بہت خوش ہو گے، کیوں کہ تم تو جنّت کے پھول تھے ناں، وہی تمہارا صل ٹھکانا ہے۔ (معصومہ، میرپورخاص روڈ، حیدرآباد)

سنڈے میگزین سے مزید