محمد آصف قریشی، حیدر آباد
قرونِ وسطیٰ کے عرب و مسلم علماء نے مختلف سائنسی شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ انھوں نے سائنسی علوم کو ایسی مضبوط بنیادیں فراہم کیں، جن پر آج جدید سائنس کی عمارات کھڑی ہیں۔ انھوں نے وُجود اور نظامِ کائنات کے حقائق سمجھنے کے لیے دعوتِ غور و فکر دی، جن میں علم بصریات (Optics) کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں اِس علم کے سب سے بڑے ماہر اور کثیر العلوم سائنس دان،ابن الہیثم تھے، جنہیں جدید آپٹکس کا بانی اور دنیا کا پہلا حقیقی سائنس دان مانا جاتا ہے۔
انہوں نے ریاضی، جیومیٹری، فلکیات اور طب (علاج) کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ جب کہ اُن کا سب سے بڑا کارنامہ، روشنی اور بصارت پر تحقیق ہے۔ انہوں نے ہی بتایا کہ آنکھ، روشنی کی شعائیں خارج نہیں کرتی، بلکہ روشنی کی شعائیں جسم سے ٹکرا کر آنکھ میں آتی ہیں۔ ابن الہیثم کی علمی عظمت یونانی مفکّرین سے بھی بڑھ کر تھی۔ انہیں بصریات کی دنیا میں ’’الہزن‘‘ (Alhazen) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
طب کے مشہور مؤرخ، میکس مائرہون لکھتے ہیں۔ ’’مسلمانوں کی سائنسی عظمت کا سب سے درخشاں پہلو علمِ بصریات ہے۔ اس میدان میں الہزن (ابن الہیثم) اور کمال الدین کی ریاضیاتی صلاحیتیں اقلیدس اور بطلیموس سے بڑھ کر تھیں اور علمِ بصریات میں حقیقی اور پائے دار ترقی اُن ہی کے نام سے منسوب ہے۔‘‘
ابن الہیثم کا پورا نام ابوعلی الحسن بن الحسن بن الہیثم تھا۔ وہ 965ء میں بصرہ (موجودہ عراق) پیدا ہوئے۔ اُس دور میں بصرہ علم و دانش کا ایک عظیم مرکز تھا۔ ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی، بعدازاں بغداد چلے گئے، جو اُس دور میں عالمِ اسلام کا بڑا علمی و فکری مرکز شمار ہوتا تھا۔ اگرچہ پیشے کے اعتبار سے ابن الہیثم ایک طبیب تھے، مگر انہوں نے طبیعیات، بصریات، فلکیات اور فلسفے میں غیر معمولی مہارت حاصل کی اور اپنے عہد کے ممتاز ترین علماء میں شمار ہونے لگے۔
گیارہویں صدی کے اوائل میں وہ مصر چلے گئے، جہاں فاطمی خلافت کے حکم ران، الحاکم نے انہیں دریائے نیل میں ہر سال آنے والے سیلاب پر قابو پانے کے لیے ایک سائنسی منصوبہ تیار کرنے کی ذمّے داری سونپی۔ تاہم، ناگزیرمشکلات کے باعث منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کرسکا، تو اُنھوں نے خلیفہ کے غضب سے بچنے کے لیے جنون کا بہانہ کرکے الحاکم کے انتقال تک گوشہ نشینی اختیار کی، مگر اس دوران تحقیق، مشاہدے اور تصنیف پر بھرپور توجّہ دی اور متعدد سائنسی تصانیف رقم کیں۔
درحقیقت ابن الہیثم ایک نابغۂ روزگار تھے۔ انہوں نے ریاضی، طبیعیات، طب، فلکیات اور فلسفے کے علوم کی ایسی بنیادیں رکھ دیں، جو بعدازاں صدیوں تک سائنس اور سائنس دانوں کی رہنمائی کرتی رہیں۔ مشہور تذکرہ نگار، کتاب ’’عیوب الانباء فی طبقات الاطباء‘‘ کے مصنّف کے مطابق، ابن الہیثم نے مختلف علوم پر تقریباً 200کُتب و رسائل تصنیف کیے۔ یورپ میں انھیں خاص طور پر بصریاتی تصانیف کی وجہ سے شہرت حاصل ہوئی، جو بعد میں لاطینی زبان میں ترجمہ ہوئیں اور مغربی جامعات میں صدیوں تک پڑھائی جاتی رہیں۔
ان کی سب سے اہم اور شہرہ آفاق تصنیف’’ کتاب المناظر‘‘ ہے۔ اگرچہ یہ کتاب اب اصل عربی میں مفقود ہوچکی ہے، مگر اس کا لاطینی ترجمہ محفوظ ہے۔ اس کتاب میں ابن الہیثم نے اقلیدس اور بطلیموس کے اس قدیم یونانی نظریے کو رد کیا کہ آنکھ خود شعائیں خارج کرتی ہے۔اس حوالے سےمغربی مؤرخ جان ولیم ڈرپیر لکھتے ہیں۔
’’ابن الہیثم پہلے سائنس دان تھے، جنہوں نے یونانیوں کے اس غلط تصوّر کی اصلاح کی کہ بینائی آنکھ سے نکلنے والی شعاؤں کے باعث ہے بلکہ اُنہوں نے ثابت کیا کہ روشنی بیرونی اشیاء سے آنکھ میں داخل ہوتی ہے۔ اور ان کا یہ نظریہ محض قیاس پر نہیں، تشریح، تحقیق اور جیومیٹری پر مبنی ہے۔‘‘ ابن الہیثم نے انعطافِ نور (Refraction)، انعکاسِ نور (Reflection) روشنی اور رنگوں کے پھیلاؤ اور بصری فریب پر تفصیلی تحقیق کی۔
پانی اور ہوا جیسے شفّاف اجسام میں روشنی کے رویّے پر تجربات کیے اور پانی سے بھرے شیشے کے کروی برتن کے ذریعے عدسوں (Magnifying lenses) کے نظریے کی بنیاد رکھی، جو یورپ میں تین صدیوں کے بعد دریافت ہوا۔ اسنیل اور ڈیکارٹ کے قانونِ سائن (Law of sines) کے لیے بھی بنیادیں فراہم کیں۔
نیز، فضائی کثافت(Atmospheric Density) کے تدریجی فرق کی بِنا پر ستاروں کے ظاہری مقام میں فرق کی بھی وضاحت کی اور بتایا کہ روشنی کا راستہ خمیدہ (Curvilinear) ہوجاتا ہے۔ اور اسی اصول کی بنیاد پر سورج اور چاند کے طلوع و غروب کے وقت نظر آنے والے بصری فریب کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ زمین کے گرد فضا کی بُلندی تقریباً ساڑھے اٹھاون میل ہے، جو جدید سائنسی اندازوں کے مطابق انتہائی قریب ترین تھی۔ ابن الہیثم نے کیمرا اوبسکورا (ڈارک چیمبر) کا بھی عملی مشاہدہ کیا، جو بعدازاں فوٹو گرافی کی بُنیاد بنا۔
یہ ایک قدرتی نظری رجحان ہے، جہاں روشنی ایک چھوٹے سوراخ (اپرچر) سے گزرتی ہوئی تاریک کمرے یا باکس میں باہر کے منظر کی الٹی تصویر کو مخالف سطح پر پیش کرتی ہے۔ انھوں نے دراصل، چاند گرہن کے دوران دیوار پر سورج کی اُلٹی تصویر دیکھی، جو ایک چھوٹے سوراخ سے داخل ہونے والی روشنی کے باعث بنی۔
سائنس کے مختلف شعبوں میں ان کی237تصانیف شمار کی گئی ہیں، جو یقیناً سائنس پر اُن کا ایک احسان عظیم ہے۔ مشہور سائنس دانوں راجر بیکن اور کیپلر نے ابن الہیثم کے کام سے بہت استفادہ کیا، جب کہ گلیلیو نے اپنی دوربین انہی کے کام سے استفادہ کرتے ہوئے بنائی۔ ان کی اہم دریافتوں میں آنکھ کی مکمل تشریح بھی شامل ہے کہ انہوں نے آنکھ کے ہر حصّے کے کام کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا، جس میں آج کی جدید سائنس بھی رتّی بھرتبدیلی نہ کرسکی۔
حدبی عدسوں پر اُن کی تحقیق و تجربات سے یورپ میں مائکرو اسکوپ اور ٹیلی اسکوپ کی ایجاد ممکن ہوئی۔ جب کہ ابن الہیثم نے محراب دار شیشے پر ایک نقطہ معلوم کرنے کا طریقہ بھی دریافت کیا، جس سے عینک کے شیشے تیار ہونے شروع ہوئے۔ اسی طرح آنکھ کا ایک دھوکا یا وہم بھی دریافت کیا، جس میں مخصوص حالات میں نزدیک کی چیز دُور اور دُور کی نزدیک نظر آتی ہے۔
اُن کی ایک کتاب’’میزان الحکمہ‘‘ میں ہوا کی کثافت، اجسام کے وزن، کششِ ثقل، مرکز ثقل، تیرتے ہوئے اجسام (جیسے جہاز) اور ناپ تول کے اصول بیان کیے گئے۔ ابتداً انہوں نے ہی کششِ ثقل کو ایک قوت کے طور پر تسلیم کیا، جسے بعدازاں نیوٹن نے مکمل نظریے کی صورت دی۔ واضح رہے، اُن کی بصریاتی تصانیف نے راجربیکن، ویتلو، لیونارڈو ڈاؤنچی اور جان کیپلر جیسے مغربی ماہرین کو بے حد متاثر کیا۔
عظیم ترین سائنس دانوں میں شمارہونے والے اس مسلمان سائنس دان ابن الہیثم کا انتقال مارچ 1040ء قاہرہ (مصر) میں ہوا اور بلاشبہ، آج بھی اُن کا مقام نہ صرف اسلامی، بلکہ عالمی سائنسی تاریخ میں بھی مرکزی اور ناقابلِ فراموش ہے۔