• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اُردو میں مختصر ترین نام سہ حرفی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ میر، ذوق، فیض، جگر، درد، سوز، نُوح۔ ان ناموں کے اوّل و آخر دو حروف کے درمیان Vowel یعنی حرفِ علّت آجائے تو نام مزید موسیقیت بھرا ہوجاتا ہے، جیسے میر، ذوق، فیض لیکن اُردو میں ایک سہ حرفی نام ایسا ہے کہ جو بیچ میں واول کے بغیر بھی اپنی صُورت میں بے انتہا خوب صورتی اور آواز میں حد درجہ چاشنی رکھتا ہے۔ اور وہ ہے سحَر۔ ’’س‘‘ کا سلسلۂ سکوت، ’’ح‘‘ کے حیران کُن حُسن سے ہوتا ہُوا ’’ر‘‘ کے رنگین رُوپ تک پہنچتا ہے۔ ح پر زبر دھر دیں تو معنی صُبحِ روشن، ح پر زبر کی بجائے جزم جڑ دیں تو معنی جادو۔ ہر ادا میں یہ نام جُدا ہے۔ اس نام کے ساتھ انصاری لگا دیا جائے تو بنتا ہے، سحَر انصاری۔ ہمارے عہد میں شعر و ادب اور علم و فن کا ایک معتبر ترین حوالہ۔

صاحبو! بعض ہستیاں زمانے کی بھاری بھرکم بھیڑ بھاڑ میں یکایک یُوں اُبھرتی ہیں، جیسے شبِ تِیرہ و تار میں کوئی تارا اچانک دمک اٹھے۔ اُن کی ذات محض ایک فرد کی نہیں رہتی بلکہ ایک دبستان، ایک روایت اور ایک تہذیب کی امین بن جاتی ہے۔ سحَرانصاری بھی انہی خوش نصیب اصحابِ علم میں سے ہیں، جن کے نام کے ساتھ اُردو زبان کی خوشبو، دہلی کی شائستگی، لکھنؤ کی نزاکت اور کراچی کی علمی فضا گُھل مِل سی گئی ہے۔

ایک بار کیا ہُوا کہ کراچی سے حیدر آباد مشاعرے کے لیے جانا ہُوا۔ ایک ہی گاڑی میں کئی گھنٹے سحَر صاحب کے ساتھ سفر کرنے کا موقع ملا۔ کیا بتاؤں کہ زبان و ادب کے حوالے سے کیسے کیسے نادر نُکتے، کیسے اَن مول نگینے اُنہوں نے بیان کیے۔ کسی بہت نرالی انوکھی کتاب کا ذکر کرنا ہو تو پوچھتے ہیں۔ ’’آپ نے فلاں کتاب دیکھ رکھی ہے کیا؟ دیکھیے گا ضرور۔‘‘ اور پھر اس کے بعد یُوں اُس کے مندرجات بیان کرتے ہیں کہ کتاب خُود ہی کُھل کر سامنے آن پڑتی ہے اور وہ بھی یُوں کہ پھڑپھڑاتے ہوئے صفحات قرات کے متقاضی۔

خُوب داستان سُنائی۔ ولی دکنی سے میر وغالب اور’’ہُواں سے ہِیاں‘‘ آج تک کے سفر میں پیار دُلار سے اُردو کی اُنگلی تھامے پیّاں پیّاں چلاتےلے آئے۔ سارا منظرنامہ دکھایا اور وہ بھی غضب کی جُزئیات نگاری کےساتھ۔ بتایا کہ اُردو کن گھاٹیوں میں گھٹاؤں کے عتاب کا شکار رہی، مگر گھٹی نہیں، کن چوٹیوں سے گرائے جانے پر کیسی کیسی چوٹیں کھائیں مگر اپنے نرالے نین نقشے سمیت ربِ اظہار کی خاص امان میں رہی۔ فرمایا کہ صاحب! اُردو ختم ہونے کے لیے جنمی ہی کہاں! یہ گنگا جمنی دالان سے نکل کر پنکھ پھیلائے سارے عالم میں پھیلی اور اب عالم دیکھیے کہ بڑی عالمی زبانوں کے پَر کَترتی ہے۔

ہم مبہوت سُنتے رہے۔ صاحبِ علم بولے تو دھیان سے سُننا چاہیے کہ گیان روز روز دان نہیں ہُوا کرتا۔ خیر، بات بات پر سوالات کی ہم نے بہتات کر رکھی کہ ہمارا تحیّر اصل میں تجسّس ہی تو ہے۔ ایک جگہ چائے کے لیے ٹھہرے۔ ہم نے لپک کرڈھابے والے بھیا سے ایک پیالی سحَر صاحب کے ذوق و ذائقے کی بنوائی اور گاڑی ہی میں لا کر پیش کی، لاتے ہوئے احتیاط برتی، ایسا نہیں کہ چھلکاتےلائے۔ خُوب دُعائیں لیں۔ کہنے لگے کہ ’’فارس! آپ کے ہاں قدرتی فطری تاثیر ہے۔ آپ کا شعر سیدھا دل پر لگتا ہے۔‘‘

مشاعرے میں پہنچے تو ایک الگ ہی داستان تھی۔ ہال کا حال دیدنی تھا۔ سامعین سے لبالب بھرا۔ (کھچا کھچ بَھرے ہال میں نسلِ نَو زیادہ ہو تو ہم اُسے لبالب کہتے ہیں)۔ وہیں پنڈال کی بغل والی راہ داری میں چند لونڈے دِلی کے بانکوں کا سا حُلیہ بنائے پنڈلی تک کسے چُوڑی دار پاجامے اور کڑھائی والے منقّش کُرتے پہنے کھڑےتھے۔

گزرتے گزرتے اُن کا ایک آدھ جملہ کان پڑا کہ ’’ابے! مَیں تو دل میں کئے ہی ریا تھا کہ سحَر صاب آویں تو ہم بیٹھیں۔ کئی دِنا پیچھو اُن نے صُورت دکھائی۔ ابےکیا دھانسو شاعرہیں۔‘‘ تو یہ ہیں ہمارے سحَر صاحب کہ جو ہر عُمر کے سامعین کا دل کھینچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ اس سنگھاسن پر کسی بابِ رعایت سے نہیں آن براجے۔ شعر دیکھیے، دبدبہ اور ولولہ اور طنطنہ اور ہمہمہ ہی الگ ہے۔ ؎

فصیلِ شہر میں پیدا کیا ہے دَر مَیں نے

کسی بھی بابِ رعایت سے مَیں نہیں آیا

اُڑا کے لائی ہے شاید خیال کی خُوشبو

تمہاری سمت ضرورت سے مَیں نہیں آیا

تِرے قریب بھی یاد آ رہے ہیں کار جہاں

بہت قلق ہے کہ فرصت سے مَیں نہیں آیا

گزر گئے یوں ہی دو چار دن اور اس کے بعد

یہی ہوا کہ ندامت سے مَیں نہیں آیا

ذکر سحَرانصاری کا ہوتو بنتی نہیں ہے بات ’’عنبریں عنبر‘‘ کہے بغیر۔ یُوں تو عنبریں حسیب عنبر بذاتِ خُود عصرِ حاضر کا ایک بڑا نام ہیں۔ نوجوان نسل میں مقبول اور سنجیدہ حلقوں میں معروف۔ خاصی پڑھی لکھی ہیں۔ مطلب، کئی برس ہونے کو آئے کہ پڑھتے پڑھتے پی ایچ ڈی ہی کر گزریں۔ اُن کا ایک شعری حوالہ اُن کے والد یعنی سحَر انصاری بھی ہیں۔ محترمہ کو خدا نے خوب بنایا ہے، رہی سہی کسرسحَر صاحب نے پوری کردی۔ سو، خال و خد سے بھی درست ہیں، شین قاف سے بھی چُست۔

ہم نے سحَر صاحب کا خاکہ لکھنے کے لیے اُن سے بھی چُپکے چُپکے کافی مدد لی۔ ہرچند کہ گھر کا بھیدی لنکا ڈھانے پر تیار نہ تھا۔ انہی سے ہمیں کچھ دل چسپ واقعات ملے، جو نذرِ قارئین کیے دیتے ہیں۔ گئے برسوں کا واقعہ ہے کہ سحَر انصاری امریکا کے مشاعراتی دَوروں پر گئے۔ ہم راہی کون؟ جون ایلیا۔ کوئی نہ کوئی اَن ہونی تو ہونی تھی، سو ہو کر رہی۔ ائیر پورٹ پر اُترے۔ امیگریشن کے لیے بڑھے۔ جون اپنے لہرئیے دار، بل کھاتے لانبے بالوں، دُبلی پتلی جسامت اور دو ڈھائی رنگوں والا کُرتا، پاجاما پہنے ہم راہ۔

کمال بے نیازی سے اپنا پاسپورٹ سحَر کے سپرد کر کے کھڑے ہوگئے۔ امیگریشن کاؤنٹر پر غالباً کوئی میکسیکو کی عظیم الجُثّہ خاتون تھی۔ اُس نے سحَر صاحب کا پاسپورٹ دیکھا، پھردُور کھڑے جون کو دیکھا۔ تب جون اُس کی طرف پُشت کیے کھڑے تھے اوراُن کے لمبے بال لہرا رہے تھے۔ امیگریشن والی خاتون جون کی طرف اشارہ کرکے بولی Is she your wife (کیا یہ تمہاری بیوی ہے؟) اس پر سحَرصاحب کا قہقہہ سُننے کے لائق تھا۔

گمانِ غالب ہے کہ جون نے یہ جُملہ سُن کر پہلے اپنا سر پیٹا ہوگا، پھر سحَرصاحب کا اور پھر اُس میکسیکن کا سر پیٹنے کی ناکام کوشش کے بعد اپنے خاص الخاص امروہوی انداز میں کہا ہوگا۔ ’’جانی! ابے خدا کی پناہ! اس کم بخت کلموہی نے تو ہمیں تمہاری زوجہ ہی بنا ڈالا؟ اجی قیامت کی نشانیاں ہیں۔ جون ایلیا زوجہ سحَر انصاری۔ بتاؤ بھلا ؟‘‘ایک اور واقعہ بھی بہت دل چسپ ہے۔ سحَر انصاری دو تین نسلوں کی ادبی آب یاری پر داد کے مستحق ہیں، پھر بھلا ایسا کیسے ممکن ہے کہ اُن کے اپنے گھر میں اُن کے بچّے اس تربیتِ خاص سے محروم رہے ہوں۔

عنبریں بتاتی ہیں کہ اُن کے ابّا گھر پر سب کا شین، قاف درست کرنے کے حوالے سےبہت فعال تھےاور اب بھی ہیں۔ بڑے بیٹے عدیل انورانصاری، عنبریں (بہ نفسِ نفیس)، عندلیب اور وجیہا (چھوٹی بہنیں) اس بات کی چشم دید گواہ ٹھہریں۔ ایک بار سحَر صاحب نے دریافت کیا کہ آج گھر پر کھانے میں کیا بنا ہے؟ اس پرعنبریں کی چھوٹی بہن عندلیب بولیں کہ’’آلو کیمہ‘‘۔ سحَر صاحب نے اُن کو پاس بُلا کر کہا کہ ’’بولو، آلو قیمہ۔

دس بار بولو اِسے اور قاف کی آواز حلق سے برآمد ہونی چاہیے۔‘‘ صاحبو! شاید اسی شبانہ و روز تربیت ہی کا نتیجہ ہے کہ عندلیب وعنبریں حلق کی اُس گہرائی سے عین اور قاف ادا کرتی ہیں، جہاں سے (بقول اُستاد یوسفی) ہم جیسے بےعلمے صرف قَے ہی کرسکتے ہیں۔ سحَر صاحب ہی کی تربیت کا ایک اور پُرلُطف اثر بھی ہم نے دیکھا ہے۔ عنبریں خُود کا حوالہ دیتے ہوئے ’’مَیں‘‘ نہیں کہتیں، ’’ہم‘‘ کہتی ہیں اور اس قدر تواتر سے کہ ’’ہم‘‘ نے اُنہیں کہا کہ ’’ہم‘‘ سُلطانہ صدیقی صاحبہ سے گزارش کریں گے کہ عنبریں کو HUM ٹی وی کا “فیس آف دی چینل” بنا دیجے، تو چینل کا طنطنہ ہی بڑھ جائے گا۔

کراچی ہی کے ایک مشاعرے کا قصّہ ہے۔ صدارت سحَر صاحب کی تھی اور بقول عنبریں، ’’سحَر صاحب ممنون حُسَین جیسی صدارت نہیں کرتے۔ مکمل بااختیار صدارت کرتے ہیں۔‘‘ ایک مقامی شاعر دُور پار کے مہمانوں کی موجودگی کے باوجود اپنا کامل دیوان ڈھولائے اور مُصر تھے کہ اِسی مشاعرے میں سُناؤں گا۔ ہم بھی وہیں موجود تھے۔ سو، دُور بیٹھے چُپکے سے تماشا کِیا کیے۔

ہم ہنس دیے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ ترا۔ لیکن سحَر تو پھرسحَر ہیں۔ اُنہوں نے شاعرِ مذکورومغفور کی ساتویں آٹھویں غزل تک تو شاید برداشت کیا، مگر پھر بول اُٹھے کہ ’’میاں صاحب زادے! بہت ہوچُکا کلامِ بلاغت نظام۔ اب بس بھی تو کیجے۔‘‘ لہجہ صاحبِ صدارت کا شُستہ، زبان شائستہ اور انداز شگفتہ تھا، سو شاعر بادلِ نخواستہ اُٹھے اور چل دیے۔ آنے والے شعراء کو بھی کان ہوئے اور مُشاعرہ وقت پر بخیر و خوبی نپٹ گیا۔ کراچی کے شعراء و شاعرات آج بھی اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کرسئ صدارت پر سحَر انصاری ہوں تو سبھی کو برابر وقت ملے گا۔ لڈو ٹوٹے گا تو سبھورا سبھورا سبھی کے حصّے میں آئے گا۔ ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی ایک ہی چٹورا سب ہڑپ کر جائے۔

سحَر انصاری تخلص کرنےوالےانورمقبول انصاری، مقبول احمد چشتی کے ہاں ستائیس دسمبر 1941ء کے دن پیدا ہوئے۔ تعلیم پر نظر دوڑائیے تو ایم اے انگریزی، ایم اے اُردو، ایم اے لسانیات اور فاضل اردو۔ سب کچھ طلائی تمغوں سے آویزاں۔ تدریس ملاحظہ ہو تو بلوچستان یونی ورسٹی، جامعہ کراچی، پاکستان اسٹڈی سینٹر، جناح یونی ورسٹی برائےخواتین، دائتو نیکا یونی ورسٹی (شعبۂ اردو، جاپان) اور اردو ڈکشنری بورڈ کے چیف ایڈیٹر۔

تصانیف پر نگاہ کیجے تو نمود (شعری مجموعہ)، ذکرِ غالب۔ ذکرِعبدالحق، خدا سے بات کرتے ہیں (شعری مجموعہ)، تنقیدی اُفق (تنقیدی مضامین)، فیض کے آس پاس اور سوادِ سخن (کلیات،جلد اوّل)۔ کیا کیا کمالات ہیں، جو ہمارے اس صاحبِ کمال نے نہیں دکھائے۔ اور دل تھام کر بیٹھیے کہ ابھی باقی ہیں، اس نابغۂ و روزگار کے قلم میں بہت سے معجزاتِ فن، جو زیرِ طبع ہیں اور جلد ہی شایع ہو کر اُن کے کروڑوں چاہنے والوں کے لیے خوش خبری بنیں گے۔

پردۂ سخن کا (تنقیدی مضامین )، پاکستانی معاشرہ اور اردو ناول، عزیز حامد مدنی (فن و شخصیت) اور ہماری دنیا تمہاری دنیا (شعری مجموعہ)۔ دُنیا بھر کے اسفار الگ، مُلکوں مُلکوں پہچان جُدا، ریڈیو، ٹی وی پر پروگرام علیحدہ۔ کئی اعزازات ان کے نام سے جُڑ کر معتبر قرار پائے، جیسا کہ ستارۂ امتیاز، تمغۂ امتیاز اور علی سردارجعفری ایوارڈ (ہیوسٹن، امریکا)۔ ویسے حاضر ادبی منظرنامہ دیکھیے تو ایک گرد ہے کہ ہمارے گرداگرد گردُوں تک اُڑتی چلی جاتی ہے۔

ایسی غتربود اور لُٹس پڑی ہے کہ خدا کی پناہ۔ سونٹے، قُمچیاں اور چھڑیاں لے کر بھی چند سُخن بہروپیوں سے نمٹیں تو کم ہے۔ کمال سے زوال تک کے اس سفر میں معدودے چند نام ہی ہمارے ہاں ایسے بچے کہ جن پر بجا طور پر فخروانبساط کیا جا سکتا ہے۔ سحَر انصاری انہی میں سے ایک ہیں اور اُن جیسے رچے بسے ہُنرمند کا دم غنیمت ہے۔ ہمیں چوں کہ سدا سے سیکھنے کا لپکا رہا ہے، سو جہاں تہاں بھی ان تک رسائی ہو، ہم حتی الامکان کوشش کرتے ہیں کہ ان سے سیکھ سکیں۔

ایک اور فکر انگیز واقعہ آپ کو سُناتے چلیں کہ جو عنبریں نے اپنے ایک یادگار مضمون ’’گھر آباد ہے‘‘ میں 2012 ء کے سال کا لکھا ہے، جب سحَر صاحب کو اچانک دل کا درد ہوا اور اُنہیں اسپتال لے جایا گیا۔ محرم الحرام کے شب و روز تھے، راستے بند اور زیادہ تر موبائل فون بھی۔ عنبریں اپنے بڑے بیٹے کے ہم راہ اسپتال پہنچیں تو اُن کے ابّا کو متعدد مشینز لگی تھیں اور آکسیجن ماسک الگ۔ جب وہ دوڑتی ہوئی اُن کے پاس پہنچیں تو سحَر انصاری کا جُملہ بہت یادگار تھا۔ بولے۔ ’’کیا ہوا؟ کیوں ایسے دوڑتی ہوئی آرہی ہو؟ مَیں ہُوں۔‘‘

عنبریں لکھتی ہیں کہ ’’اُن کے لہجے کے یقین اور الفاظ ’’مَیں ہُوں‘‘ نے مجھے حیران کردیا۔ اُسی وقت ڈاکٹر آصف فرخی آگئے، جنہوں نے مجھے احساس دِلایا کہ میرے رونے اور پریشان ہونے سے ڈیڈی کا بلڈ پریشر ہائی ہو سکتا ہے، جو خطرناک ہوگا۔ بعد میں ڈیڈی نے مجھے سمجھایا کہ غم کی بھی اپنی تہذیب ہوتی ہے۔‘‘ صاحبو! شاعر کا یقین پختہ ہو، تبھی اُس کےمصرعے میں ابد تاب جان آتی ہے۔ اُنہی دنوں شیخ سعدی کا شعر اُنہوں نے عنبریں کو سُنایا کہ ؎

کار سازِ ما بہ فکرِ کارِ ما

فکرِ ما در کارِ ما آزارِ ما

کہ جب میرا کارساز، میرا خالق میرے کام کے لیے خُود ہی فکرمند ہے تو پھر مجھے بھلا اپنے کام کے لیے خُود پریشان ہوکر خُود کو آزار و اذیت میں جھونکنے کی کیا ضرورت؟ وہیں آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے ایک شعر ہُوا تھا، جو انہوں نے سُنایا کہ ؎

بنایا چاک پہ ہم کو بھی کوزہ گر نے سحَر

سو کوزہ گر ہی ہمارا خیال رکھے گا

آپریشن سے پہلے اور بعد میں سحَر صاحب کا حوصلہ دیدنی اور یقین حیران کُن تھا۔ ہمارے یہ بزرگ شاعر حرفِ اولیں سے آج تک ادب کے عاشقین میں پنج سورت پڑھ کر شعری شیرینی تقسیم کرتے چلے آئے ہیں۔ یاروں کی چوکڑی ہو کہ ہزاروں کا مجمع، بہاروں کی صُبح ہو کہ ستاروں کی شام، سحَر انصاری کی تخلیق نرالی اور گفتگو انوکھی ہی ہوتی ہے۔

پاپوش نگر، ناظم آباد، کراچی میں مُقیم ہماری یہ نادرِروزگار شخصیت خلعتِ فن اوڑھے اور کُلاہِ ادب سر پر سجائے خُود میں مگن اور تخلیق میں محو ہے۔ سمندر کنارے بسا یہ شہر اِن کے اشعار کی چاشنی ہمیشہ یُوں خُود میں بسائے رکھے گا، جیسے اُس کے اپنے پانی میں سلون پن۔ ادب ابد تک اُن کےاشعار کا ادب کرے گا۔ اُن کے کچھ متفرق اشعار ہمارے قارئین کی نذر۔ ؎

عجیب ہوتے ہیں آدابِ رخصتِ محفل

کہ وہ بھی اُٹھ کے گیا، جس کا گھر نہ تھا کوئی

؎ یہ مرنا جینا بھی شاید مجبوری کی دو لہریں ہیں

کچھ سوچ کے مرنا چاہا تھا، کچھ سوچ کے جینا چاہا ہے

؎ ہم کو جنت کی فضا سے بھی زیادہ ہے عزیز

یہی بے رنگ سی دنیا یہی بے مہر سے لوگ

؎ دِلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز

محبتیں تو گئی تھیں، عداوتیں بھی گئیں

؎ محفل آرائی ہماری نہیں افراط کا نام

کوئی ہو یا کہ نہ ہو، آپ تو آئے ہوئے ہیں

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید