• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمل سے عاری نظری تعلیم: جدید ہوم اکنامکس کا المیہ

تعلیم محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ یہ شخصیت سازی کا عمل بھی ہے اور ’’ہوم اکنامکس‘‘ تعلیم کی ایک ایسی شاخ ہے کہ جس نے کئی نسلوں کو زندگی جینے کا سلیقہ و ہُنر سکھایا، مگر افسوس کہ آج اس شعبے میں علم تو باقی ہے مگر عمل ناپید ہوچُکا ہے۔

ماضی میں ہوم اکنامکس کی کلاسز گھر گرہستی کی عملی تصویر ہوتی تھیں۔ بچیاں صرف کھانوں کی تراکیب پڑھتی ہی نہیں تھیں، بلکہ اُن کی مدد سے مختلف اقسام کے مزے دار پکوان تیار بھی کرتی تھیں اور پھر وہی کھانے نہایت نفاست کے ساتھ صاف سُتھرے برتنوں میں ڈال کر سجی سجائی ڈائننگ ٹیبلز پر پیش بھی کیے جاتے تھے۔

ہر طالبہ کی کوشش ہوتی تھی کہ اس کی پیش کش کا انداز سب سے نفیس اور نرالا ہو، کیوں کہ یہ مقابلہ محض نمبرز کا نہیں بلکہ ذوق اور سلیقے کا بھی ہوتا تھا۔ اُس دَور میں میز کی سجاوٹ میں بھی تربیت کا پہلو پوشیدہ ہوتا تھا اور کوشش کی جاتی تھی کہ آسان اورسادہ سے کام کوبھی نہایت سلیقےاورخُوب صُورتی سے انجام دیا جائے اور یہی تربیت بعد ازاں طالبات کے امورِ خانہ داری، مہمان نوازی اور حتیٰ کہ عملی زندگی میں جھلکتی تھی۔

گرچہ آج بھی ہوم اکنامکس کےنصاب میں کھانوں کی تیاری جیسے امور شامل ہیں، مگر اکثر اسکولز میں سہولت، وقت کی کمی اور ’’ٹیچرز کی تو عید ہو جاتی ہے‘‘ کو جواز بنا کر نصاب سے باقاعدہ کوکنگ کی تربیت نکال دی گئی ہے۔ نتیجتاً، ان درس گاہوں میں طالبات کوعلم تو ملتا ہے، مگر ہُنر نہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ گھرگرہستی سے متعلق مختلف اقسام کے ہُنر سیکھنے ہی سے بچیوں میں اعتماد اور ذوق پیدا ہوتا ہے۔

یاد رہے، عمل کے بغیر علم ایسا ہی ہے، جیسے نقشہ بغیر سفر کے۔ ہوم اکنامس کی طالبات کھانےکی تراکیب لکھ تو سکتی ہیں،غذائی اجزاء شمار بھی کر سکتی ہیں، مگر چولھے کی آنچ، مسالا جات کی خوش بُو اورذائقےکےتوازن سےناواقف رہتی ہیں اور اِس خلا کا اثر صرف باورچی خانے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اُن کی شخصیت کی تشکیل میں بھی محسوس ہوتا ہے، جب کہ اس کے برعکس ہوم اکنامکس کا پرانا نصاب ہاتھ، آنکھ اور دِل تینوں کو ساتھ لے کر چلتا تھا۔

وہ طالبات کو یہ سکھاتا تھا کہ محنت کیا ہوتی ہے؟ ترتیب کیوں ضروری ہے اور خُوب صُورتی کیسے پیدا کی جاتی ہے؟ آج اس اَمر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم جدید تقاضوں کے ساتھ اس طرزِ تعلیم کو دوبارہ زندہ کریں تاکہ ہوم اکنامکس محض مضمون ہی نہیں بلکہ عملی تربیت کا حصّہ بھی بن سکے، کیوں کہ تعلیم کا اصل مقصد صرف امتحان پاس کرنا نہیں، بلکہ باوقار، باصلاحیت اور بااعتماد انسان بنانا ہے۔

دوسری جانب اسکولز میں لڑکوں کی عملی تعلیم کے خاتمے کی صُورت میں بھی سنگین اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک زمانے میں اسکولز میں طلباء کو زراعت کی بنیادی عملی تربیت فراہم کی جاتی تھی۔ اُنہیں کھیت، فصل، بیج، پانی اور موسم کے بارے میں کتابی علم دینے کے علاوہ عملی تجربات بھی کروائے جاتے تھے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ بچّہ اپنی زمین سے جُڑا رہے اور معیشت کی بنیاد کو سمجھے۔ آج یہ تربیت نصاب سے تقریباً ختم ہوچُکی ہے۔

اسی طرح ماضی میں اسکولز میں طلبہ کو بجلی کے خراب آلات کی مرمّت اور لکڑی کے کام سمیت دیگر فنون بھی سکھائے جاتے تھے، لیکن اب یہ سلسلہ مکمل طور پر ختم ہو چُکا ہے یا پھر محض رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے اور اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ طلبہ غیر دِل چسپ اور رٹّے پر مبنی کتابی علم کو بےکار سمجھنے لگے ہیں اور کُھلے بندوں یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’’اِس تعلیم کا آخر کیا فائدہ؟‘‘ دراصل، یہ جملہ بغاوت نہیں بلکہ مایوسی کی علامت ہے، کیوں کہ جب تعلیم ہاتھ کو ہُنر، ذہن کو سمت اور مستقبل کو کوئی واضح شکل نہ دے، تو وہ بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔

پھر یہی نوجوان یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ’’کوئی ہُنرسیکھیں گے اور باہر چلے جائیں گے۔‘‘ مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ نوجوان بیرونِ مُلک جا کر کون سا کام کریں گے؟ کیوں کہ ہُنر کے بغیر تعلیم عالمی منڈی میں قابلِ قبول نہیں اور پھر ہمارے نوجوانوں کو کوئی غیر مُلکی زبان آتی ہے، نہ وہ تیکنیکی معیار پر پورے اُترتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں پیشہ ورانہ اخلاقیات کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

یوں آج کا پاکستانی نوجوان بےروزگار ہی رہ جاتا ہے، جب کہ پُرانا تعلیمی نظام اس اعتبار سے نہایت مناسب تھا کہ وہ پڑھائی اور کام کو الگ نہیں کرتا تھا اور فنی تعلیم اور نظری علوم ایک ہی سلسلے کی کڑیاں تھیں۔

آج ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم اسکولز میں عملی تربیت کو دوبارہ اہمیت دیں، تاکہ طلبہ یہ محسوس کریں کہ تعلیم زندگی سے غیرمتعلق نہیں، بلکہ زندگی کوسنوارنے کا ذریعہ ہے۔ ذیل میں اس ضمن میں چند اہم تجاویز بھی پیش کی جا رہی ہیں،جن پرعمل درآمد سے طلبہ کو تعلیم کے ساتھ مختلف فنون سے بھی بہرہ مند کیا جاتا ہے۔

1۔ اسکولز کی سطح پر عملی کلاسز کی بحالی

اسکولز کے نصاب میں ہوم اکنامکس، زراعت اور دیگر فنی مضامین کے عملی تجربات کو لازمی قرار دیا جائے۔ کھانا پکانا، ڈائننگ ٹیبل سجانا، کاشت کاری کے تجربات اور الیکٹریکل یا میکینیکل کی بنیادی مشقیں باقاعدہ مارکس کے ساتھ شامل کی جائیں تاکہ طلبہ اس ضمن میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔

2 ۔ نصاب کی مقامی معاشرت سے مطابقت

نصابِ تعلیم کو پاکستانی معاشرت، معیشت اور ماحول کے مطابق ڈھالا جائے۔ زراعت، توانائی، پانی، گھریلو نظم ونسق اور چھوٹے کاروباری ہُنر ایسے مضامین ہیں کہ جن کی عملی تعلیم طلبہ اپنی روزمرّہ زندگی سے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔

3۔ اساتذہ کی عملی تربیت

صرف کتابیں پڑھانے والے ہی نہیں بلکہ مختلف ہنر سکھانے والے اساتذہ بھی تیار کیے جائیں۔ ٹیچرز ٹریننگ کالجز میں عملی مہارت کو لازمی جُزو بنایا جائے تاکہ اساتذہ خُود مختلف فنون سیکھ کر طلبہ کو بھی سِکھا سکیں۔

4 ۔ نظری اور عملی تعلیم کا امتزاج

نظری تعلیم اور فنی تربیت کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جائے اور ہر طالبِ علم کو کم از کم ایک ہُنر سیکھنے کا موقع ضرور فراہم کیا جائے، جس کے ساتھ بنیادی تعلیمی فہم بھی شامل ہو۔

5 ۔ سرٹیفکیشن اور معیار

اسکولزکی سطح پر سکھائے جانے والے مختلف فنون کے باقاعدہ سرٹیفکیٹس دیئے جائیں تاکہ طلبہ مستقبل میں مُلکی یا بین الاقوامی سطح پراُن سے فائدہ اُٹھا سکیں۔

6۔ ذوق، ترتیب اور پیش کش کی تربیت

ڈائننگ ٹیبل کی سجاوٹ، صفائی، ترتیب اورکام کی خُوب صُورت پیش کش کو بھی تعلیم کا حصّہ بنایا جائے، کیوں کہ یہی اوصاف پیشہ ورانہ زندگی میں بھی کام یابی کی ضمانت بنتے ہیں۔

7۔ طلبہ کی زندگی کو بامقصد بنائیں

تعلیم کے ذریعے طلبہ کی زندگی کو بامقصد بنایا جائے اور مستقبل میں اُن کی زندگی کی سمت کا تعیّن کیا جائے، تاکہ وہ یہ نہ کہیں کہ ’’تعلیم حاصل کرنے کا کیا فائدہ؟‘‘ بلکہ یہ سمجھ سکیں کہ علم اور ہُنر مل کر ہی باوقار زندگی کی ضمانت بنتے ہیں۔

یاد رہے، مذکورہ بالا تجاویز کوئی انوکھا فارمولا نہیں بلکہ اُس عملی تربیت کی یاد دہانی ہے کہ جو کبھی ہمارے تعلیمی نظام کا لازمی حصّہ تھی۔ اگر آج بھی خلوصِ نیّت اور بصیرت کا مظاہرہ کیا جائے، تو اس طرزِ تعلیم کو دوبارہ رائج کیا جا سکتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید