• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

موٹاپا: پاکستان کا نظامِ صحت، سخت بحرانی کیفیت کا شکار

پاکستان ایک خاموش، مگر تیزی سے بڑھتے صحت کے بحران کا سامنا کر رہا ہے اور وہ ہے، موٹاپا۔ جو کبھی صرف ظاہری مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ذیابطیس، امراضِ قلب، ہائی بلڈ پریشر، فیٹی لیور، بانجھ پن، فالج، گُردوں کی ناکامی اور یہاں تک کہ بعض کینسرز کے سب سے مضبوط عوامل میں سے ایک بُن چکا ہے۔

ایک اینڈوکرینولوجسٹ کے طور پر ہمارا روزانہ ہی ذیابطیس اور میٹابولک بیماریوں کے مریضوں سے واسطہ پڑتا ہے اور اس دَوران ایک تشویش ناک رجحان سامنے آ رہا ہے کہ اب موٹاپا کم عُمر افراد کو بھی سخت متاثر کر رہا ہے اور ان میں میٹابولک پیچیدگیاں پہلے سے کہیں زیادہ شدید دیکھی جا رہی ہیں۔

آج موٹاپا صرف خوش حال معاشروں یا بڑی عُمر کے افراد تک محدود نہیں رہا۔ یہ اسکول جانے والے بچّوں، نوجوانوں، پیشہ ور افراد، گھریلو خواتین اور یونی ورسٹی کے طلبہ یعنی نو عُمروں میں بھی عام ہو رہا ہے۔

تشویش ناک اعداد و شمار: پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ میٹابولک بیماریوں کا بوجھ رکھنے والے ممالک میں شامل ہے۔ انٹرنیشنل ڈائی بیٹک فیڈریشن کے تازہ ترین اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں34 ملین سے زائد بالغ افراد ذیابطیس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جو دنیا میں بلند ترین شرح میں سے ایک ہے اور ذیابطیس میں اضافے کا موٹاپے سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

پاکستانی آبادیوں کی تحقیق سے پتا چلتا ہے٭جنوب ایشیائی معیار (South Asian cut-offs) کے مطابق عمومی موٹاپا58 فی صد بالغ افراد کو متاثر کرتا ہے٭مرکزی موٹاپا (central obesity) 73 فی صد سے زیادہ آبادی کو متاثر کرتا ہے٭ شہروں میں موٹاپا اور ذیابطیس کی شرح دیہات کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، کیوں کہ دیہات کی نسبت شہری زندگی میں جسمانی سرگرمیوں کا فقدان، پُراسائش طرزِ زندگی، پراسیسڈ فوڈ کا استعمال عام اور ذہنی دباؤ کی شرح بلند ہے اور یہی سب عوامل موٹاپے اور ذیابطیس کے محرّک ہیں۔

موٹاپا اور جنوبی ایشیا: پاکستانی اور دیگر جنوب ایشیائی باشندے، مغربی آبادیوں کی نسبت کم جسمانی وزن پر میٹابولک پیچیدگیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض افراد صرف زائد وزن کے حامل نظر آتے ہیں، لیکن درحقیقت وہ پہلے ہی متعدّد بیماریوں اور طبّی مسائل کا شکار ہو چُکے ہوتے ہیں، جن میں انسولین ریزیسٹینس، فیٹی لیور کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی زیادتی اور پولی اینڈوکرائن میٹابولک اووری سینڈروم (Polyendocrine Metabolic Ovarian Syndrome )، جو سابقہ اصطلاح، پولی سیسٹک اووری سینڈروم (Polycystic Ovary Syndrome-PCOS) کے لیے تجویز کردہ ایک نیا نام ہے، شامل ہیں۔

سب سے خطرناک قسم پیٹ کا موٹاپا ہے، یعنی کمر کے گرد اضافی چکنائی/ چربی، جو سوزش پیدا کرنے والے عضو کی طرح کام کرتی ہے اور وقت کے ساتھ جسم کو خاموشی سے نقصان پہنچاتی رہتی ہے۔ یہ اندرونی چربی اِن خطرات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے ٭ٹائپ ٹو ذیابطیس ٭دل کے دورے ٭اسٹروک(stroke)٭پی ایم او ایس(PMOS) ٭نیند میں سانس رُکنے کی بیماری (Sleep Apnea) ٭اور دائمی گردے کی بیماری۔

فاسٹ فوڈ کلچر: گزشتہ دہائی کے دَوران پاکستان میں طرزِ زندگی میں ایک بڑی تبدیلی گھر سے باہر کھانے کی شرح میں اضافے کی صُورت سامنے آئی۔ ریستورانوں میں کھانا، فاسٹ فوڈ، فوڈ ڈیلیوری ایپس اور رات دیر سے کھانا شہری زندگی کا معمول بن چُکا ہے۔ زیادہ تر ریستوران کے کھانے کیلوریز، غیر صحت بخش چکنائیوں، ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس، نمک اور چینی سے بھرپور ہوتے ہیں۔

مقبول کھانے جیسے برگر، پیزا، فرائیڈ چکن، پراٹھے اور میٹھے مشروبات ایک ہی کھانے میں پورے دن کی کیلوریز کی ضرورت پوری کر دیتے ہیں۔ ریستوران اور فاسٹ فوڈ کا بار بار استعمال، پراسیسڈ اسنیکس اور میٹھے مشروبات، بالغوں اور بچّوں دونوں میں موٹاپے، انسولین کی مزاحمت، فیٹی لیور کی بیماری، ہائی کولیسٹرول اور ٹائپ ٹو ذیابطیس کی شرح بڑھانے میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان میں خواتین خاص ہدف: پاکستان میں خواتین موٹاپے سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں، جو متعدّد سماجی، ہارمونل اور طرزِ زندگی کے عوامل کی وجہ سے بھی ہے۔ مختلف رپورٹس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی خواتین میں موٹاپے کی شرح مَردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

خواتین میں موٹاپے کی شرح میں اضافے کی اہم وجوہ میں٭ پولی اینڈوکرائن میٹابولک اووری سینڈروم٭بانجھ پن ٭حیض کی بے قاعدگیاں٭حمل کے دوران ذیابطیس ٭حمل کی پیچیدگیاں٭ڈیپریشن اور خود اعتمادی کی کمی وغیرہ جیسے عوامل شامل ہیں۔

بچپن میں موٹاپا: سب سے تشویش ناک رجحان بچّوں میں موٹاپے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہے، جس کی وجوہ میں٭جنک فوڈ٭میٹھے مشروبات٭پراسیسڈ اسنیکس٭زیادہ اسکرین ٹائم٭اور بیرونی سرگرمیوں میں کمی وغیرہ شامل ہیں۔ کھیل کے میدان ختم ہو رہے ہیں، جب کہ اسکرین کی لت عام ہوتی جا رہی ہے۔ اسکول جانے والے بچّوں میں، خاص طور پر شہری علاقوں میں، وزن اور موٹاپے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

بطور معالج، ہم اب ایسے بچّوں اور نوجوانوں کو دیکھ رہے ہیں، جو٭فیٹی لیور کی بیماری٭انسولین ریزیسٹینس ٭کولیسٹرول میں اضافے٭اور یہاں تک کہ ٹائپ ٹو ذیابطیس کا شکار ہیں۔ وہ بیماریاں، جو کبھی درمیانی عُمر کے بالغوں میں دیکھی جاتی تھیں، اب نوعُمری میں ظاہر ہو رہی ہیں۔

پاکستانی اِتنی تیزی سے وزن کیوں بڑھا رہے ہیں؟

غیر صحت مند غذائی نمونے: روایتی متوازن غذائیں اب اِن اشیاء سے تبدیل ہو رہی ہیں ٭فاسٹ فوڈ ٭ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس ٭میٹھے مشروبات٭بیکری کی مصنوعات٭اور انتہائی پراسیسڈ غذائیں۔ ایک سافٹ ڈرنک میں جسم کے لیے پورے دن کی ضرورت سے زیادہ شکر ہوتی ہے۔

جسمانی سرگرمیوں کی کمی: جدید شہری زندگی نے جسمانی سرگرمی کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، جس کی وجوہ میں٭ ڈیسک پر مبنی نوکریاں٭گاڑیوں پر انحصار٭ دیر تک بیٹھنا٭ اور موبائل فون کا حد سے زیادہ استعمال، وغیرہ شامل ہیں۔

اِن عادات یا معاملات نے ایک ایسا ماحول پیدا کیا ہے، جو موٹاپے کو فروغ دیتا ہے۔نیند کی کمی اور دباؤ: ناقص نیند اور دائمی دباؤ، بھوک کنٹرول کرنے والے ہارمونز کو متاثر کرتے ہیں اور غیر صحت بخش کھانوں کی خواہشات بڑھاتے ہیں۔ ثقافتی رویّے: بہت سے گھرانوں میں٭زیادہ کھانے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے٭کھانے سے انکار کرنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے٭اور موٹاپا اب بھی غلط طور پر خوش حالی اور اچھی صحت سے منسلک کیا جاتا ہے۔

موٹاپا پاکستان کا نظامِ صحت کم زور کر رہا ہے: ٭موٹاپے کا مالی اثر بہت زیادہ ہے کہ پاکستان پہلے ہی ذیابطیس سے متعلق صحت کی دیکھ بھال پر سالانہ سیکڑوں ارب روپے خرچ کر رہا ہے اور اب موٹاپے سے متعلق بیماریاں بھی نظام پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ جیسے ٭اسپتال میں داخلے ٭ڈائیلاسیسز٭دل کی سرجری ٭زندگی بھر کی ادویہ٭ اور معذوری، موٹاپے سے منسلک ہیں۔ نیز،غیر متعدی بیماریاں اب پاکستان میں اموات کا بڑا حصّہ ہیں اور موٹاپا اس بحران کے مرکز میں ہے۔

موٹاپا ایک بیماری ہے، ذاتی ناکامی نہیں: ہمارے معاشرے میں ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ موٹاپا صرف سُستی یا خود پر قابو پانے کی کمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جدید طبّی سائنس موٹاپے کو ایک دائمی میٹابولک بیماری کے طور پر تسلیم کرتی ہے، جس پر ٭جینیات ٭ہارمونز ٭ماحول ٭تناؤ ٭نیند کا معمول ٭سماجی و اقتصادی حالات ٭اور بھوک کی ریگولیشن (brain appetite regulation) جیسے عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ مریضوں کو طبّی مدد اور ہم دردی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ تنقید کی۔

اب پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

خاندانوں کو روزمرّہ کی عادات تبدیل کرنی ہوں گی: ٭میٹھے مشروبات کم کریں ٭گھر کے بنے ہوئے کھانوں کی حوصلہ افزائی کریں ٭فاسٹ فوڈ محدود کریں ٭چہل قدمی اور جسمانی سرگرمی کو فروغ دیں۔ اسکولوں کو صحت کے مراکز بننا چاہیے: تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ٭کھیلوں کی سرگرمیوں میں اضافہ کریں ٭غیر صحت مند کینٹین کے کھانوں کی حوصلہ شکنی کریں٭بچّوں کو غذائیت اور ورزش سے متعلق آگاہی دیں۔ حکومتی کارروائی ضروری ہے: اِس ضمن میں ٭عوامی آگاہی مہمّات ٭میٹھے مشروبات پر ٹیکس٭صحت مندانہ اسکول پالیسیز ٭اور شہری انفراسٹرکچر، جو پیدل چلنے اور ورزش کو فروغ دیتا ہو، ضروری ہیں۔

موٹاپا قابلِ علاج ہے: حوصلہ افزا حقیقت یہ ہے کہ موٹاپے کا علاج اور روک تھام ممکن ہے۔ وزن میں پانچ سے دس فی صد معمولی کمی بھی نمایاں طور پر٭ بلڈ شوگر٭بلڈ پریشر٭کولیسٹرول ٭بانجھ پن ٭فیٹی لیور٭اور امراضِ قلب کے خطرات میں کمی لا سکتی ہے۔

موٹاپے کا علاج: موٹاپے کے علاج کے ضمن میں ٭طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں ٭متوازن اور صحت بخش غذا٭رویّے اور عادات میں تبدیلی ٭باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور منظّم ورزش٭وزن کم کرنے کی ادویہ ٭اور منتخب مریضوں میں بیریاٹرک/میٹابولک سرجری وغیرہ شامل ہے۔ تاہم، علاج ہمیشہ ماہرِ صحت کی نگرانی ہی میں ہونا چاہیے۔

قومی بے داری کی کال: پاکستان اب موٹاپے کو نظر انداز کرنے کا متحمّل نہیں ہو سکتا۔ اگر موجودہ رجحانات جاری رہے، تو اگلی دہائی میں نوجوانوں میں ذیابطیس، امراضِ قلب، گُردوں کی ناکامی اور معذوری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ موٹاپا صرف انفرادی مسئلہ نہیں، یہ ایک قومی، عوامی صحت کی ہنگامی صُورتِ حال ہے۔ لہٰذا، اِس مسئلے کا حل اجتماعی کوششوں کا متقاضی ہے۔

(مضمون نگار، ایف سی پی ایس (میڈیسن)، ایف سی پی ایس (ذیابطیس، اینڈوکرینولوجی اور میٹابولزم) اور ایک کنسلٹنٹ اینڈوکرینولوجسٹ ہیں)