• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مریم شہزاد، کراچی

جب ایک نوبیاہتا جوڑا اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرتا ہے، تو اُس کے روز و شب اپنی سابقہ زندگی کے ایام کے مقابلے میں کافی حد تک بدل جاتے ہیں۔ شادی کے بندھن میں جُڑنے کے بعد میاں بیوی کے مشاغل، سرگرمیاں اور دل چسپی کے اُمور پہلے سے نہیں رہتے۔ وہ اپنی آنکھوں میں مستقبل کے نئے، سُہانے خواب سجاتےاور ان کی تکمیل اور اپنی آئندہ زندگی سے متعلق ڈھیروں ڈھیر منصوبے بناتے ہیں۔

شادی کے ابتدائی ایام میں بالخصوص عورت کو اپنے کمرے کی صفائی سُتھرائی اور سجاوٹ کا جنون کی حد تک شوق ہوتا ہے۔ اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ کمرے کی ہر اِک شے شیشے کی مانند چمکتی دمکتی دکھائی دے اور اس مقصد کے لیے وہ پورے زورو شور کے ساتھ اپنے فرنیچر کی صفائی کرتی ہے۔ ڈریسنگ ٹیبل، سائیڈ ٹیبل پرسے ایک ایک چیز ہٹا کراُنہیں صاف کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ لپ پینسلز اور لپ اسٹکس تک کی صفائی کی جاتی ہے۔

نئی نویلی دُلہن اپنے چمکتے دمکتےفرنیچر اور کمرے میں موجود دیگر نئی اشیاء پر ایک نظر ڈالتی ہے، تو اُس کا دل خوشی سے سرشار ہوجاتا ہے، چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ اپنے جہیز کے سامان کو دیکھتے ہوئے جب اُس کی نظر خُوب صُورت سے لیمپ پر پڑتی ہے، تو اسے یاد آتا ہے کہ اس کی خریداری کے لیے اُس نے اپنی امّی کو کتنی مشکلوں سے مَنایا تھا۔

پھر اُس کی نگاہ ایک کونے میں رکھے ڈسٹ بن پر جاتی ہے، تو اُسے اپنے ابّو سے کی گئی ضد یاد آ جاتی ہے۔ جب اُس کی نظر اپنے نئے ملبوسات پر جا ٹھہرتی ہے، تو اُسے درزی سے اپنی لڑائی یاد آجاتی ہے۔ پھر جب وہ اپنے دِیدہ زیب سینڈلز کی جانب دیکھتی ہے، تو اُسے یاد آتا ہے کہ اپنے مطلوبہ سائز کے اِن سینڈلز کے لیے وہ کتنا خوار ہوئی تھی۔

یونہی دن گزرتے جاتے ہیں اور پھر اس جوڑے کے ہاں ایک ننّھے مہمان کی آمد ہوتی ہے، تو عورت کی تمام تر توجّہ چیزوں سے ہٹ کر اُس ننّھے مُنّے سے وجود کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً، کمرے میں موجود فرنیچر اور دیگر اشیاء، جو روزانہ صاف کی جاتی تھیں، اب کبھی دو تین دن بعد تو کبھی ہفتے، دو ہفتے بعد صاف ہونے لگتی ہیں۔

بچّوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، تو روزمرّہ معمولات کی نوعیت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اب ہر لمحہ عورت کی جان اپنے بچّوں میں اٹکی ہوتی ہے۔ جب بچّے بڑے ہوجاتے ہیں، تو یہی جوڑا سب کچھ فراموش کرکے ان کی تعلیم و تربیت اور ضروریات پوری کرنے کی کوشش میں صرف ’’ماں باپ‘‘ بن کر رہ جاتا ہے، جن کا کام محض بچّوں کی پرورش اور اُن کی چھوٹی بڑی خواہشات کی تکمیل کرنا ہوتا ہے۔

مگر ایسے میں اکثر والدین یہ بات بُھول جاتے ہیں کہ صرف بچّوں کی ضروریات اور خواہشات کی تکمیل اور انہیں کسی چیز کی کمی نہ ہونے دینا ہی تربیت نہیں، بلکہ بچّوں کی تعلیم و تربیت تو آپ کا ہر لمحہ مانگتی ہے۔ اُنہیں ضروریات اور آسائشوں میں فرق بتانا ازحد ضروری ہے۔ بچّوں کی ہر خواہش فوراً پوری کرنا عقل مندی نہیں اور نہ ہی ماں باپ کے منع کرنے پر دادا دادی، نانا نانی یا چچا یا ماموں کی جانب سے اُن کی فرمائشیں پوری کرنا ضروری ہے، کیوں کہ اس قسم کے بے جا لاڈ پیار سے بچّےضدی اور خودسَر ہوجاتے ہیں۔

یاد رہے، بچّے نہ صرف اپنے والدین بلکہ اپنے آس پاس کے تمام لوگوں کے رویّوں کا بھی بغور جائزہ لیتے ہیں۔ یعنی کون کس سے کس طرح سے بات کر رہا ہے؟ کس کی گھر میں زیادہ اہمیت ہے؟ کس کو بالکل نظر انداز کیا جاتا ہے اور کس کی بات مانی جاتی ہے؟ بچّے ان تمام چیزوں کو بہت اچّھی طرح دیکھ اور سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

اگر ایسے میں بچّوں کی ماں سے، جو اُن کے سب سے زیادہ قریب ہوتی ہے، دیگر اہلِ خانہ غلط برتاؤ کرتے ہیں، یعنی گھر کے تمام کاموں کا بوجھ اُس پر ڈال کر دادی، پھوپھیاں وغیرہ خود آرام کریں، ساتھ ہی اُس کے کاموں پر نکتہ چینی بھی کرتی رہیں اور ماں گھریلو کاموں میں مشغولیت کے باعث اپنے بچّوں کو وقت نہ دے سکے، تو بچّوں کے دل و دماغ میں نہ صرف یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اُن کی ماں کے پاس اُن کے لیے وقت نہیں بلکہ اِن کے دل میں اپنے ددھیال کے لیے بھی منفی احساسات و جذبات پروان چڑھنے لگتے ہیں۔

تاہم، بچّے یہ نہیں سمجھ پاتے کہ اُن کے ماں کے کاندھوں پر گھر کے کاموں کی بھاری ذمّےداری ہے،تب ہی وہ اُنھیں مناسب وقت نہیں دے پارہی۔ مزید برآں، بیوی کے ساتھ شوہر کا رویّہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اگر باپ بچّوں کے سامنے اُن کی ماں کو ڈانٹتا ڈپٹتا ہے، تو بچّے بھی سنِ شعور کو پہنچ کر ماں سے بدتمیزی سے پیش آن لگتے ہیں، جب کہ اس کے برعکس جو شوہر اپنی بیوی سے محبّت اور عزّت سے پیش آتے ہیں، اُن کی اولاد بھی ہمیشہ اپنی ماں کو عزّت دیتی ہے، اس لیے یہ کہنا کہ صرف ماں کی تربیت ہی بچّوں کے مزاج پر اثرانداز ہوتی ہے، بالکل غلط بات ہے۔

ماں اگر اپنی ہرممکن کوشش بھی کرلے، مگر آس پاس کا ماحول موافق نہ ہو، تو بچّوں کی تربیت میں جھول آ ہی جاتا ہے۔ سو، اِس ضمن میں محض ماں کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں، سب درِپردہ عوامل کی اصلاح اشد ضروری ہے۔

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’پیارا گھر‘‘

٭ ماں، محبت کا پیکر (ڈاکٹر شاہد ایم شاہد، واہ کینٹ) ٭ امّی، پہلی استاد، عالمی یومِ اہلِ خانہ، (صبا احمد، کراچی) ٭ سُنتِ ابراہیمیؑ اور بےجا اسلامی رسومات (ڈاکٹر ایم شمیم نوید، گلشنِ اقبال، کراچی) ٭سُنتِ ابراہیمیؑ (روزینہ خورشید) ٭ تراکیب (راشدہ صدیق، چاہِ سلطان، راول پنڈی) ٭ عیدِ قرباں (نصرت جبیں) ٭ والدین کی دُعا (مبشرہ خالد، کراچی) ٭ماں، توّہم پرستی کا دائرہ (محمّد صفدر خان ساغر، راہوالی) ٭ مثالی باپ (نیلم ہاشمی، کراچی)۔

برائے صفحہ ’’متفرق‘‘

٭ محنت مشقّت کرنے والے بچّوں کا دن (سیّد اطہر نقوی) ٭ سندھی ادبی بورڈ (محمد عارف مغل، کوٹ غلام محمّد)٭ ایک فرض، ایک امانت، ایک معاشرتی لعنت (حمیراشمیم، واہ کینٹ) ٭یومِ تکبیر(شگفتہ جہاں، کراچی) ٭شہادتِ سیدنا عثمان غنیؓ (قاضی جمشید عالم صدیقی، علّامہ قبال ٹاؤن، لاہور) ٭فریضۂ حج کی ادائی (افروز عنایت) ٭ڈاکٹر بشیر بدر، ایک عہد تمام ہوا۔ (ارسلان اللہ خان، حیدرآباد) ٭قربانی کا مقصد، آئی جی جیل خانہ جات، (رانا اعجاز حسین چوہان) ٭روشنی، ہوا کی حیرت انگیز کارکردگی، ردی کی ٹوکری، آنسو (جمیل ادیب سیّد، کراچی) ٭تفریح کا سامان (مبشرہ خالد، کراچی)٭لاہور کا لڑکا (دلشاد عالم) ٭بے نظیر کی نظیر(عماد مزاری) ٭ خواتین کے مسائل (عبید مجید) گوجرہ ریلولے پھاٹک پرچالان مہم (زاہد رؤف کمبوہ، غلّہ منڈی، گوجرہ)٭ عقیدت بھری روایات( ثناء توفیق خان، ماڈل کالونی، کراچی)۔

ناقابلِ اشاعت کلام اور اُس کے تخلیق کار

٭ قربانی کا بکرا (صبا احمد، کراچی) میرے وجود کی زمیں (ارم فاطمہ ، سڈنی، آسٹریلیا) ٭سنیے جناب مچھر(نورین خان)٭غزلیں(حنا دانش خان، کراچی)٭ آنکھیں( محمد صفدر خان ساغر، راہوالی،گوجرانوالہ)۔

سنڈے میگزین سے مزید