کراچی (اسٹاف رپورٹر) کتب خانے اوراس کی اہمیت سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر اتقاق کیا کہ کتب خانے اور جدید ٹیکنالوجی وقت کی اہم ضرورت ہیں، نوجوان نسل کو دوبارہ کتاب سے جوڑنا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق ڈاکٹر جمیل جالبی فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’’کتب خانے اور جدید ٹیکنالوجی، ضرورت اور اہمیت‘‘ کے عنوان سے ایک بھرپور علمی و فکری سیمینار نسیم شاہین آڈیٹوریم، ڈاکٹر جمیل جالبی ریسرچ لائبریری، جامعہ کراچی میں منعقد ہوا۔ سیمینار کی نظامت مجید رحمانی نے کی، جبکہ محترمہ گلناز محمود تقریب کی نگران رہیں۔ تقریب کی صدارت ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی نے کی اور مہمانِ خصوصی ڈاکٹر توصیف احمد خان تھے۔سیمینار میں ملک کے ممتاز ماہرینِ کتب خانہ، اساتذہ، محققین اور لائبریرینز نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر جہانگیر احمد، ڈاکٹر عامر طاسین، پروفیسر سعید حسن قادری، پروفیسر عمران غوری، ڈاکٹر عرفان شاہ، ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر، میر حسین علی امام، احمد دین، زاہد حسین جوہر، کلیم علی خان، پروفیسر ناصر مصطفیٰ، ڈاکٹر زید پیرزادو، شجاع الدین، سید مظفر شاہ، جمیل صدیقی، نرگس فاطمہ، محمد اجمل، خالد پرویز، محمد عارف سومرو اور جاوید جواد حسن شامل تھے۔ اس کے علاوہ خورشید احمد، شہزاد سلطانی، رفعت وسیع اللّٰہ، حرا طارق، نسیم آرا، شہلا صلاح الدین، مسعود اصغر کمالی اور بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات نے بھی سیمینار میں شرکت کی۔تقریب کے دوران ڈاکٹر محمود یوسف علی نے ’’کتب خانوں میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور چیٹ بوٹس کا استعمال‘‘ کے موضوع پر ایک جامع ڈیجیٹل پریزنٹیشن پیش کی۔