پشاور(جنگ نیوز) حکومتِ خیبرپختونخوا نے لیگل ایڈ سوسائٹی (LAS)، برطانوی دفتر خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقی (FCDO) اور اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (UNFPA) کے اشتراک سے خیبرپختونخوا سیکسول وائلنس رسپانس فریم ورک (KP SVRF) 2026–2030 کا باضابطہ اجرا کر دیا۔ اس فریم ورک کا مقصد صوبے میں جنسی اور صنفی بنیاد پر تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے متاثرہ فرد پر مبنی، نفسیاتی طور پر حساس اور مختلف اداروں کے باہمی تعاون پر مبنی مؤثر نظام قائم کرنا ہے۔افتتاحی تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت داروں، طبی ماہرین، قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ کے نمائندوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے جنسی تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے مؤثر روک تھام، تحفظ، انصاف اور معاونت کی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو این ایف پی اے کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ ڈاکٹر گلنارا قادرکولووا نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ افراد کو مربوط اور جامع خدمات فراہم کرے تاکہ ان کی فوری ضروریات بروقت پوری کی جا سکیں۔محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی سیکرٹری شگفتہ نوید نے کہا کہ مختلف اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت طبی، نفسیاتی، قانونی اور حفاظتی خدمات میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس فریم ورک کو عملی نظام کا حصہ بنانا ہوگا، تاکہ ابتدائی امداد فراہم کرنے والے اہلکار، طبی افسران، پولیس اور عدالتی نظام ہر مرحلے پر حساس، مربوط اور مؤثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔