• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’دنیا بدل رہی ہے‘‘ آپ بھی خود کو بدلیں لیکن اپنی پہچان کو برقرار رکھیں

ہما ساجد

تبدیلی اور جدت کا دور ہے۔ دنیا لمحہ بہ لمحہ بدل رہی ہے۔ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ دیے ہیں، معلومات ہر ہاتھ میں آ چکی ہے، اور ترقی کے دروازے پہلے سے کہیں زیادہ کھل چکے ہیں، مگر اس تمام ترقی کے باوجود ایک حقیقت نہایت تشویشناک ہے کہ آج کا نوجوان اپنی شناخت کھوتا جا رہا ہے۔

یہ وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر انسان اپنی شخصیت کی عمارت کھڑی کرتا ہے۔ نوجوانی میں انسان اپنی شناخت تشکیل دیتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر اسے درست رہنمائی نہ ملے تو وہ کنفیوژن، بے یقینی اور احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتا ہے۔

آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں سانس لے رہا ہے جہاں ہر لمحہ تبدیلی کی نئی لہر اس کے سامنے ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا اور گلوبل کلچر نے اس کی سوچ، ترجیحات اور طرزِ زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔

بظاہر یہ دور سہولتوں اور مواقع سے بھرپور ہے، مگر یہی دور نوجوان نسل کے لیے کئی فکری، اخلاقی اور سماجی آزمائشیں بھی لے کر آیا ہے۔ نوجوان اگر درست سمت پا لیں تو اُن کے ساتھ قوم کا بھی مستقبل روشن ہو سکتا ہے، اور اگر الجھنوں کا شکار ہو جائیں تو یہی طاقت کمزوری میں بدل سکتی ہے۔

آج کے نوجوانوں کا ایک بڑا مسئلہ اندھی تقلید ہے۔ وہ یہ سمجھے بغیر کہ کیا درست ہے اور کیا غلط، دوسروں کی نقل کرنے لگتے ہیں۔

مغربی ثقافت، فلمیں، ڈرامے اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نوجوانوں کے ذہنوں پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔ نوجوان اپنی زبان، لباس، اور طرزِ زندگی اور روایات کو چھوڑ کر دوسروں کی نقل کر رہے ہیں۔ یہ تقلید وقتی طور پر جدیدیت کا احساس تو دیتی ہے، مگر انسان کو اپنی اصل سے دور کر دیتی ہے۔ نسلِ نوتذبذب کا شکار ہے کہ وہ مشرقی اقدار کو اپنائیں یا مغربی طرزِ زندگی کو؟ یہی کشمکش انہیں بے سمتی کی طرف لے جا رہی ہے، جہاں وہ نہ مکمل طور پر اپنی روایات سے جڑے ہیں اور نہ ہی کسی نئی راہ پر۔

ٹیکنالوجی ایک نعمت کے ساتھ آزمائش بھی ہے۔ اگر اس کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ ترقی کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگر غلط استعمال ہو تو تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ نوجوان اگر اپنا زیادہ وقت غیر ضروری سرگرمیوں میں گزاریں تو وہ اپنی صلاحیتوں کو ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ صورتحال انہیں مایوسی، بے چینی اور بعض اوقات منفی راستوں کی طرف بھی دھکیل دیتی ہے۔

جدیدیت کے نام پر نوجوان نسل میں دینی اور اخلاقی اقدار کمزور پڑتی جا رہی ہیں۔ مادہ پرستی اور خود غرضی نے جگہ لے لی ہے، جبکہ صبر، حیا، احترام اور ذمہ داری جیسے اوصاف کم ہوتے جا رہے ہیں یہی وجوہات ہیں کہ، آج بہت سے نوجوان انزائٹی، اسٹریس اور ڈپریشن کا شکار ہیں۔ وہ زندگی کے مقصد سے محروم ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے ان میں مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ خلا صرف اسی وقت پُر ہو سکتا ہے جب نوجوان اپنی زندگی کو دین کی روشنی میں دیکھنا شروع کریں اور اپنے کردار کو سنوارنے کی فکر کریں۔

نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ خود کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اپنی پسند، ناپسنداور صلاحیتوں اور خوابوں کو پہچانیں۔ اپنی ثقافت، مذہب اور روایات کو سمجھیں۔

زندگی کا واضح مقصد طے کریں۔ وقت کے ضیاع کے بجائے اسے علم، دعوت اور مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں۔

قرآن و سنت سے تعلق مضبوط کر کے اپنے کردار کو سنوار یں۔دنیا بدل رہی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم خود کو بدل کر اپنی اصل کھو دیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم بدلتی دنیا کے ساتھ چلتے ہوئے بھی اپنی پہچان کو برقرار رکھیں۔

رہنمائی، محبت اور اعتماد کے ذریعے نوجوان کو صحیح راستہ دکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر آج ان کی صحیح رہنمائی کر دی جائے تو کل ایک مضبوط، باوقار اور کامیاب معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نوجوانوں کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی رہنمائی کریں، ان پر اعتماد کریں اور ان کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دیں کیونکہ یہی نوجوان آنے والے کل کے معمار ہیں اور انہی کے ہاتھوں قوموں کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔

نوجوان سے مزید