انیلہ افضال ایڈووکیٹ
موجودہ دور تیز رفتاری، مسابقت اور غیر یقینی حالات کا دور ہے، جہاں ہر نوجوان اپنی شناخت بنانے، کامیابی حاصل کرنے اور ایک بہتر مستقبل کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ ایک زمانہ تھا جب صرف ذہانت، تعلیمی کارکردگی اور اعلیٰ نمبروں کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا اس سوچ سے آگے نکل چکی ہے۔
اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا صرف ذہانت یعنی’’ آئی کیو‘‘ ہی انسان کو کامیاب بناتی ہے، یا پھر جذباتی ذہانت یعنی’’ ای کیو‘‘زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے؟ یہ سوال محض ایک علمی بحث نہیں بلکہ عملی زندگی سے جڑا ہوا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ای کیو اپنے اور دوسروں کے جذبات کو بھانپنے اور اُنہیں کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ آئی کیو کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ذہنی صلاحیت ہے، جس کے ذریعے انسان تجزیہ کرتا ہے، مسائل حل کرتا ہے اور منطقی سوچ اپناتا ہے۔
ذہانت کی پیمائش کے لئےآئی کیو کا تصور 1905ء میں الفرڈ بینٹ( Alfred Binet )نے دیا تھا۔ اس نے مختلف عمروں کےحوالےسے ایسے سوالات کی فہرست ترتیب دی جن کے ذریعے کسی بھی فرد کی ذہانت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا، یہ عمل آئی کیوٹیسٹ کہلایا۔ اس نظرئیے کی بنا پر خیال کیا جاتا ہے کہ، جو شخص جتنا زیادہ تعلیم یافتہ، چیزوں پر زیادہ سے زیادہ توجہ دینے والا ہوگا، وہ اتنا ہی وہ کامیاب ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے’’ آئی کیو‘‘ کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے۔ ایک بچہ جب اسکول جاتا ہے تو اس کی قابلیت کو اس کے نمبروں، گریڈز اور امتحانی نتائج کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔ والدین اور اساتذہ بھی اکثر اسی پیمانے کو کامیابی کا معیار سمجھتے ہیں۔
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہی چیز کامیابی کی ضمانت ہے، جو بچے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں، انہیں ذہین اور قابل سمجھا جاتا ہے، جبکہ اوسط یا کمزور طلبہ کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس رویے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلبا کی پوری توجہ صرف کتابی علم اور ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے پر مرکوز ہو جاتی ہے، جبکہ ان کی جذباتی تربیت پس منظر میں چلی جاتی ہے۔
’’ ای کیو‘‘کی اصطلاح یوں تو 1960 کی دہائی میں استعمال ہونا شروع ہوگئی تھی، جسے سب سے پہلے ماہرِ نفسیات پیٹر سیلووے (Peter Salovey) اور جون میر( John Mayer )نے 1989ء میں اپنے مضامین میں اس پر روشنی ڈالی تھی۔ لیکن ای کیوکا تصور دنیا بھر میں رائج کرنے کا کریڈٹ 1990ء کے وسط میں امریکی ماہر نفسیات اور نیویارک ٹائمز کے سابق رپورٹر، ڈینئل گولمین Daniel Goleman ) کو جاتا ہے۔
ای کیوکا تعلق انسانی جذبات سے ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جس کے ذریعے انسان اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھتا، ان پر قابو پاتا اور ان کے مطابق مناسب ردعمل دیتا ہے۔ ای کیو میں خود آگاہی، خود کنٹرول، ہمدردی، صبر، برداشت اور تعلقات کو بہتر انداز میں نبھانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔
ایک اعلیٰ آئی کیو رکھنے والا نوجوان پیچیدہ مسائل کو جلد سمجھ سکتا ہے، مشکل سوالات حل کر سکتا ہے اور تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ تمام خصوصیات کامیابی کے لیے نہایت اہم ہیں، کیونکہ یہ انسان کو علمی میدان میں آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی خصوصیات زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کی ضمانت دیتی ہیں؟
تجربات و مشاہدات نے ثابت کیا کہ آئی کیو کی بنیاد پر ذہانت کا نظریہ حقیقی دنیا میں درست ثابت نہیں ہوپارہا ہے۔ نمایاں گریڈ اسکور کرنے والے عموماً ذہنی، جسمانی اور جذباتی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔
دوسری طرف ایک ایسا نوجوان جونہ صرف اپنے جذبات کو بہتر انداز میں سنبھال سکتا ہے بلکہ دوسروں کے جذبات کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی صلاحیت اسے معاشرتی زندگی میں کامیاب بناتی ہے۔ جن نوجوانوں میں بے صبری، جلد غصہ آنا، معمولی باتوں پر مایوس ہو جانا اور تنقید برداشت نہ کرنا جیسی علامتیں ہوں تو کہا جاتا ہے کہ ان میں ای کیوکی کمی ہے۔
مثال کے طور پر ایک طالب علم جو تعلیمی لحاظ سے بہت ذہین ہے، مگر اس میں برداشت، صبر اور دوسروں کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرنے کی صلاحیت نہیں تو وہ پیشہ ورانہ زندگی میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ صرف ذہانت کافی نہیں، بلکہ مؤثر ابلاغ، برداشت اور مثبت رویہ بھی کامیابی کے لیے لازمی عناصر بن چکے ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام میں طلبہ کو کتابی علم تو دیا جاتا ہے، مگر انہیں یہ نہیں سکھایا جاتا کہ ناکامی کا سامنا کیسے کرنا ہے، دباؤ کو کیسے برداشت کرنا ہے، یا دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات کیسے قائم کرنے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہت سے ذہین نوجوان عملی زندگی میں مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی ناکامی ان کی پوری زندگی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
ماہرینِ نفسیات کے مطابق کامیابی میں ای کیو کا کردار اکثر آئی کیو سے زیادہ اہم ہوتا ہے، اس کے برعکس، محض ذہانت رکھنے والانوجوان اگر جذباتی طور پر کمزور ہو تو وہ اپنی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پاتا اور ناکامی کا نتیجہ اکثر انگزائٹی، ڈیپریشن یا کبھی کبھی تو خود کشی کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے۔
اس کے برعکس ایک ایسا نوجوان جس کاآئی کیو اوسط ہو مگرای کیو مضبوط ہو تو وہ زندگی میں زیادہ کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ وہ لوگوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرتا، ٹیم ورک میں اچھا کردار ادا کرتا اور مشکل حالات میں خود کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک کامیاب انسان وہ ہوتا ہے جو نہ صرف اپنے شعبے میں ماہر ہو بلکہ ایک اچھا انسان بھی ہو، جو دوسروں کے لیے فائدہ مند ہو، جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرے اور جو اپنے رویے سے دوسروں کے دل جیت سکے۔
ایک ڈاکٹر اگر بہت قابل ہو مگر مریض کے ساتھ ہمدردی نہ رکھتا ہو، تو وہ ایک اچھا ڈاکٹر نہیں ہو سکتا۔ ایک لیڈر کے لیے بھی ای کیو نہایت ضروری ہے، کیونکہ وہ لوگوں کے ساتھ رابطہ قائم کرتا، ان کے مسائل کو سمجھتا ہے اور ان کی رہنمائی کرتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ صرف آئی کیو پر توجہ دینا کافی نہیں، بلکہ ای کیوکو بھی برابر اہمیت دینا ضروری ہے کیونکہ زندگی میں ایسے بے شمار مواقع آتے ہیں، جہاں انسان کو اپنے جذبات پر قابو پانا، دوسروں کے ساتھ تعاون کرنا اور مشکل حالات میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔
آئی کیو ایک حد تک پیدائشی ہوتا ہے ، جبکہ ای کیو کو وقت کے ساتھ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ موجودہ عالمی حالات اور تیز رفتار زندگی نے انسان کو ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیا ہے، ایسے میں ای کیو کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہی صلاحیت انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے اور متوازن زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے۔ اس لئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آئی کیو اور ای کیو دونوں اہم ہیں، مگر کامیابی کے لیے ان کا توازن ضروری ہے۔ آئی کیو ہمیں راستہ دکھاتا ہے، جبکہ ای کیو اس راستے پر ثابت قدمی سے چلنا سکھاتا ہے۔
آج کا نوجوان اگر واقعی ایک کامیاب اور باوقار زندگی گزارنا چاہتا ہے، تو اسے اپنی ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ اپنی جذباتی صلاحیتوں کو بھی نکھارنا ہوگا۔ اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی صرف مقابلہ جیتنے کا نام نہیں بلکہ ایک اچھا انسان بننے کا بھی نام ہے۔