لاہور (آصف محمود بٹ)2017سے 2025 تک کے وزرائے اعظم کے سرکاری ہیلی کاپٹر کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو شو کاز نوٹس ، وزیراعظم کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال، ایندھن، دیکھ بھال اور اس پر ہونے والے سرکاری اخراجات کی تفصیلات فراہم نہ کرنے پر پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) نے کابینہ ڈویژن کے سیکریٹری کے خلاف کارروائی مزید سخت کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے، جبکہ خبردار کیا ہے کہ اگر کمیشن کے قانونی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو رائٹ آف ایکسیس ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017 کے تحت قانونی جرمانے اور دیگر کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔”جنگ “ کو دستیاب شوکاز نوٹس کے مطابق پاکستان انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ وزیراعظم کے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال، اس پر آنے والے اخراجات اور اس کی دیکھ بھال سے متعلق معلومات عوامی مفاد اور شفافیت کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے انہیں محض رازداری یا استثنیٰ کی بنیاد پر روکا نہیں جا سکتا۔اپیل نمبر 5193-12/2025 میں جاری ہونے والا یہ شوکاز نوٹس چیف انفارمیشن کمشنر شعیب احمد صدیقی اور انفارمیشن کمشنر اعجاز حسن اعوان نے اس وقت جاری کیا جب یہ معلوم ہوا کہ کمیشن کے 21 مئی 2026 کے فیصلے پر مقررہ مدت گزرنے کے باوجود عمل درآمد نہیں کیا گیا، نہ مطلوبہ معلومات فراہم کی گئیں اور نہ ہی عمل درآمد سے متعلق کوئی رپورٹ کمیشن کے سامنے پیش کی گئی۔ پاکستان انفارمیشن کمیشن نے مزید کارروائی کے لیے مقدمے کی سماعت 29 جولائی 2026 تک ملتوی کرتے ہوئے سیکریٹری کابینہ ڈویژن کو جواب جمع کرانے کی ہدایت بھی کی ہے۔