اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے یومیہ نوٹیفکیشن کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے، اٹک ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عادل خٹک نے کہا ہے کہ یہ اقدام مارکیٹ کے مطابق پیٹرولیم کی قیمتوں کے تعین کے نظام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اس اقدام کی کامیابی کا انحصار وسیع تر ریگولیٹری اصلاحات پر ہوگا۔ خٹک، جو اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی انرجی کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ قیمتوں کے یومیہ تعین کی طرف منتقلی مارکیٹ کی ردعمل کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور بتدریج ڈی ریگولیشن کی جانب حکومتی نیت کی عکاس ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض قیمتوں کے نوٹیفکیشن کی فریکوئنسی بڑھانے سے مارکیٹ کی حقیقی لبرلائزیشن حاصل نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا، ’’اس اہم اصلاحات کی کامیابی کا انحصار محض قیمتوں کے نوٹیفکیشن کے تواتر پر نہیں، بلکہ مجموعی ریگولیٹری فریم ورک کی مضبوطی اور ساکھ پر ہوگا۔‘‘ خٹک نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نئے نظام کو چلانے کے لیے ترمیم شدہ پرائسنگ میکانزم، نفاذ کا روڈ میپ، اور اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نجی شعبے سمیت مارکیٹ کے تمام شراکت داروں کے لیے انصاف، شفافیت اور یکساں مواقع کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یومیہ قیمتوں کے تعین کی مجوزہ منتقلی کے باوجود، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، انوینٹریز اور درآمدات کو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اب بھی ریگولیٹ کیا جا رہا ہے۔ خٹک کے مطابق، ان بنیادی ساختی مسائل کو حل کیے بغیر قیمتوں کے نوٹیفکیشن کو پندرہ روزہ سے ہفتہ وار، اور اب یومیہ بنیادوں پر منتقل کرنے سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے، انوینٹری اور کیش فلو کا انتظام پیچیدہ ہو سکتا ہے، اور مقابلے کا ایک غیر مساوی ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔