تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) پاکستان نے چین کی مددسے امریکا اور ایران کے مابین مذاکرات کی بحالی کیلئے نئی کوششیں شروع کردی ہیںجبکہ امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے عراق کے ذریعے پیش کی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز کومسترد کردیاہے ‘ادھرآبنائے ہرمز سے ٹینکرز کی آمدورفت کم ترین سطح پر پہنچ گئی‘ گزشتہ روزصرف ایک جہاز وہاں سے گزرا جبکہ بحیرہ احمر میں ایک اور سعودی ٹینکرکو نشانہ بنایاگیا ہے ‘ آبنائے ہرمز کے انتظام پر تبادلہ خیال کیلئے عمان کا سفارتی وفدجمعہ کو تہران پہنچ گیا ‘عمانی وزیرخارجہ نے ہرمز کو کھلارکھنے کا مطالبہ کیا ہے ‘امریکی فوج کی جانب سے ایران پر مسلسل 13ویں رات حملوں کے نتیجے میں کم از کم4افراد شہید اور7زخمی ہوگئے ‘ دوسری جانب تہران نے جوابی کارروائیوں کے دوران اردن‘بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات اور اڈوںکو نشانہ بنایا ہے ‘ پاسداران نے بحرین میں ایمازون کے ڈیٹا سینٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہےاور مشرقِ وسطیٰ کے شہریوں کوخبردارکیاہے کہ وہ امریکی افواج سے دور رہیں‘اے ایف پی کے مطابق عراق میں اربیل ہوائی اڈے کے قریب متعدد دھماکے سنے گئے ہیں جبکہ حوثی جنگجوؤں نے باب المندب کی بندش کی تردیدکرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بحری ناکہ بندی کا ہدف صرف سعودی عرب ہے‘ حوثیوں سے منسلک ٹی وی کے مطابق سعودی جنگی طیاروں نے مغربی یمن کے ساحلی شہرحدیدہ اور کمران جزیرے پر حملے کیے ہیں۔ صدرٹرمپ نے چین اور روس کو خبردارکیا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار بیچنے سے بازرہیں ‘ اگر انہوں نے ایساکیاتویہ ان کے لیے بہت برا ہوگاجو کہ ان کے بہترین مفاد میں نہیں ہوگاتاہم ان کا یہ بھی کہنا تھاکہ دونوں ممالک اس تنازع میں شامل نہیں ‘اب سے کسی بھی جہاز کو ہونے والے نقصان کا ہرجانہ منجمد ایرانی اثاثوں سے ادا کیا جائے گا‘ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کرنے کا ابھی فیصلہ نہیں کیا کیونکہ مذاکرات میں تہران اب سنجیدہ ہو رہا ہے‘شاید ایران پر بڑے حملوں کی ضرورت نہ پڑے ‘وہ جنگ ختم اور معاہدہ کرنا چاہتے ہیں ۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیاہے کہ ہرمزسے متعلق مطالبات پورے ہونے تک جنگ بندی قبول نہیں کریں گے ‘تہران امریکا کی اطاعت قبول کرے گا نہ ہی دھمکیوں کی زبان برداشت کرے گا۔منجمد اثاثوں کو ہرجانے کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کرنے سے خطرناک نظیر قائم ہو گی۔ایران کی خاتم الانبیاء سینٹرل ملٹری کمانڈکے سربراہ علی عبداللہی نے خطے میں موجود امریکی فوجی اہلکاروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے آپ کے لیے جہنم کے مفت اور یکطرفہ ٹکٹ تیار کر رکھے ہیں‘ایران کےہر شہید شہری کے بدلے ایک امریکی فوجی کو جہنم واصل کیا جائے گا۔امریکی نیوزویب سائٹ ایکسیوز نے ذرائع کے حوالے سے بتایاہے کہ امریکا اور برطانیہ اگلے ہفتے لندن میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس بلانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں جس کا بنیادی مرکز ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک ممکنہ بین الاقوامی بحری اتحاد کی تشکیل ہوگی جبکہ اقوامِ متحدہ نے ہرمز میں پھنسے 6ہزار ملاحوں کے انخلا کی اپیل کی ہے‘ علاوہ ازیں بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہےجبکہ اردن میں امریکی سفارت خانے نے امریکیوں کومشرق وسطیٰ کے سفرپر نظرثانی کرنے اور اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے‘ادھر امریکا نے پابندیوں کا شکار ایرانی سرمایہ کار بابک زنجانی سے منسلک 9 کمپنیوں اور 4 افراد پر مزید پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چین اور روس کے صدور نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کریں گے۔ٹرمپ نےسوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بیجنگ میں ہماری حالیہ ملاقات کے دوران صدر شی نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ کسی بھی صورت میں ایران کو ہتھیار نہیں دیں گے اور نہ ہی فروخت کریں گے۔ اور اس میں چینی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔ ولادیمیر پوتن نے بھی ان سے ایسا ہی وعدہ کیا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں یوکرین کو ہتھیار نہیں بیچ رہا بلکہ نیٹو ممالک کو فروخت کر رہا ہوں۔ وہ ان ہتھیاروں کی پوری قیمت ادا کرتے ہیں اور مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ وہ ان ہتھیاروں کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جن دو بڑے ممالک کا لوگ اکثر ایران کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس میں شامل ہیں‘اگر وہ شامل ہوتے تو یقینی طور پر یہ ان کے اپنے مفاد میں نہ ہوتا ۔ ادھرایران حکام کا کہنا ہے کہ امریکا نے زیباکنار میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا ہےجس کے نتیجے میں ہیڈکوارٹر کے بعض آلات اور ساز و سامان کو نقصان پہنچا ہے۔ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خودکش ڈرونز کے ذریعے بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ اڈے پر امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے‘ان حملوں میں ایندھن کے ذخائر، فوجی ساز و سامان کے گودام، ذخیرہ کرنے کی شیڈز اور امریکی فوجیوں کی رہائشی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔اس کے علاوہ اردن کے الازرق اڈے پر امریکی فوج کے زیر استعمال طیاروں کے ہینگرز، طیاروں کی دیکھ بھال کے مراکز اور فوجیوں کی رہائش کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو نشانہ بنایاگیا۔ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے کویت میں کیمپ ادعیری میں امریکی آلات کے گوداموں اور کیمپ دوحا اور کیمپ عارفجان میں امریکی فوجی اہلکاروں کی جگہوں پر ڈرونز سے حملے کیے ہیں۔پاسداران نے علی السالم ایئر بیس پر اسلحہ خانے کو تباہ کرنے اور امریکی اہلکاروں کے جانی نقصان کا دعویٰ کیا۔بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ایک واچ ٹاور پر بھی حملوں کا دعویٰ کیا۔