اسلام آباد (خبر نگار) پاکستان تحریک انصاف نے بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال، جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور گندم بحران پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور بلوچستان سیکورٹی پالیسی از سر نو مرتب کرنے، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں کمی، زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کے مطالبات کر دئیے ۔ ایک بیان میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ ذمہ دار عناصر کو فوری گرفتار کر کے صوبے کی سیکورٹی پالیسی ازسرِ نو مرتب کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور عدلیہ کی آزادی پر حملوں سے پاکستان کا یورپی یونین کا GSP+ تجارتی اسٹیٹس خطرے میں پڑ سکتا ہے، جس سے برآمدات اور لاکھوں افراد کا روزگار متاثر ہو گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت 27 بین الاقوامی معاہدوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔انہوں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت 1700 ارب روپے کے پٹرولیم لیوی ہدف اور 80 روپے فی لٹر پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں فوری کمی کرے، حالیہ اضافے واپس لے اور اعلیٰ بیوروکریسی کے لئے منظور کئے گئے خصوصی الاؤنس کو منسوخ کرے۔ انہوں نے گندم کی ایک ملین ٹن درآمد کے فیصلے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں گندم کی پیداوار ضرورت پوری کرنے کے لئے کافی تھی، اصل مسئلہ ناقص خریداری پالیسی اور ذخیرہ اندوزی ہے۔ پارٹی نے زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے، گندم کی خریداری کا آزادانہ آڈٹ کرانے، غیر ضروری درآمدات روکنے، چینی کی برآمد بند کرنے اور کسانوں کے لئے امدادی قیمت کا نظام بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔