• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زرخیز کھیتوں اور تازہ سبزیوں کی پیداوار کیلئے مشہور سرسبز مری جنگلی سووروں کی وجہ سے مشکلات میں

اسلام آباد (بیورو رپورٹ) کسی وقت میں اپنے زرخیز کھیتیوں اور تازہ سبزیوں کی پیداوار کیلئے مشہور مری کو زرعی معیشت کے زوال کا سامنا ہے کیونکہ جنگلی سوئروں کی تیزی سے بڑھتی تعداد مسلسل فصلیں تباہ کر رہی ہے، جس سے کسانوں کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں اور ان کے پاس متبادل راستے بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ نسل در نسل مری کے مختلف دیہات میں مکئی، آلو، ٹماٹر، شلجم، کدو، مٹر، پھلیاں اور دیگر موسمی سبزیاں کاشت کی جاتی رہی ہیں۔ کاشتکاری نہ صرف خوراک کا ذریعہ تھی بلکہ ہزاروں خاندانوں کی معاشی زندگی کا بنیادی ستون بھی سمجھی جاتی تھی۔ چند علاقوں کو چھوڑ کر آج یہ کھیت ویران ہیں۔ مقامی کسانوں کے مطابق جنگلی سور تقریباً ہر رات بڑی تعداد میں کاشت شدہ زمینوں پر حملہ آور ہوتے ہیں، جڑ سے فصلیں اکھاڑ دیتے ہیں، کھیت روند ڈالتے ہیں اور چند ہی گھنٹوں میں کئی ماہ کی محنت برباد ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نقصان اس قدر شدید ہے کہ بیشتر کسانوں نے کاشتکاری ہی ترک کر دی ہے، کیونکہ وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ جب فصل منڈی پہنچنے سے پہلے ہی تباہ ہو جائے تو سرمایہ لگانے کا کیا فائدہ۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران یہ مسئلہ انتہائی شدت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ جنگلی سوئر جنگلات سے نکل کر مری کی پہاڑیوں میں واقع دیہات تک پھیل چکے ہیں۔ فصلوں کی تباہی کے علاوہ یہ جانور اب سڑکوں اور رہائشی آبادیوں کے قریب بھی دکھائی دینے لگے ہیں، جس سے عوام کے تحفظ کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق چند دہائیاں قبل تک مری میں جنگلی سوروں کا کوئی وجود نہیں تھا۔ کسی کو معلوم نہیں کہ یہ جانور کیسے اور کہاں سے مری کے جنگلات میں پہنچے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی اور اب یہ ہر طرف موجود ہیں، جہاں یہ اردگرد کے کھیتوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہ دیہات کے اندر تک گھس آتے ہیں اور جو کچھ باقی بچتا ہے اسے بھی تباہ کر دیتے ہیں۔ مقامی رہائشی شکایت کرتے ہیں کہ بارہا توجہ دلانے کے باوجود حکومتِ پنجاب اب تک جنگلی سوروں سے نجات دلانے اور علاقے کی زرعی معیشت کے تحفظ کیلئے کوئی مؤثر حکمتِ عملی متعارف نہیں کرا سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ کسانوں کیلئے کوئی معاوضے کا نظام ہے، نہ جنگلی سوروں کی آبادی پر مؤثر کنٹرول کا کوئی پروگرام، محکمہ جنگلی حیات، محکمہ جنگلات اور محکمہ زراعت بھی کوئی مربوط کوشش نہیں کرتے۔ حکومتِ پنجاب نے بعض علاقوں میں مرحلہ وار باڑ لگانے کا ایک منصوبہ ضرور شروع کیا ہے، تاہم مقامی افراد اسے محض سرکاری وسائل کا ضیاع قرار دیتے ہیں۔ ایک مقامی رہائشی کا کہنا تھا کہ زیادہ تر جنگلی سوئر اندھیرا ہونے کے بعد آتے ہیں اور سورج نکلنے سے پہلے سب کچھ تباہ کر کے چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پوری رات کھیتوں کی نگرانی کی کوشش کی، لیکن ہر روز جنگلی جانوروں کے بڑے غول کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔ کئی دیہات کے لوگ سمجھتے ہیں کہ مری کے بیشتر علاقوں میں کاشتکاری اب معاشی اعتبار سے قابلِ عمل نہیں رہی۔ وہ کھیت جو کبھی مقامی منڈیوں کو تازہ سبزیاں فراہم کرتے تھے، اب بنجر ہیں، جس سے نہ صرف گھریلو آمدنی متاثر ہو رہی ہے بلکہ علاقے کا دیرینہ زرعی ورثہ بھی خطرے سے دوچار ہے۔ مقامی افراد کو خدشہ ہے کہ اگر متعلقہ حکام نے فوری طور پر ایک جامع حکمت عملی اختیار نہ کی تو یہ علاقہ اپنے تاریخی زراعت سے محروم ہو سکتا ہے۔
اہم خبریں سے مزید