کراچی (رفیق مانگٹ) لندن میں رہائش کا بحران،11لاکھ مکانوں کی اشد ضرورت،تعمیرات میں قوانین بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں،سالانہ 88 ہزار گھروں کاہدف ، صرف 4 ہزار 170 یونٹس تعمیر ہوسکے ، آبادی میں ایک لاکھ کا اضافہ،ویانا جیسے چھوٹے شہر میں لندن سے تین گنا زیادہ مکان تعمیر، برطانوی دارالحکومت کی پالیسی ناکامیوں کو بے نقاب کردیا، ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر لندن نے منصوبہ بندی کے فرسودہ نظام میں فوری اصلاحات نہ کیں تو شہر اپنی معاشی اہمیت کھو دے گا۔لندن آج ایک ایسے رہائشی بحران کی گرفت میں ہے جس نے شہر کی معیشت، سماجی ڈھانچے اور سیاسی منظرنامے کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف سالانہ 88 ہزار نئے مکانات کا سرکاری ہدف ہے، مگر 2024-25 میں محض 4170 یونٹس کی تعمیر شروع ہو سکی، جبکہ اسی عرصے میں آبادی میں ایک لاکھ کا اضافہ ہوا-یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ شہر کو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے مزید 11 لاکھ مکانوں کی تعمیر کرنی پڑے گی، حالانکہ ویانا جیسا چھوٹا شہر لندن سے تین گنا زیادہ تعمیر کر رہا ہے۔ اس جمود کی جڑ 1940 کی دہائی کا وہ پیچیدہ منصوبہ بندی نظام ہے جو ہر منصوبے کو 9 ہزار صفحات اور چار سال کی کاغذی کارروائی میں الجھا دیتا ہےجیسا کہ شورڈچ ورکس کا المیہ ہے، جہاں لاکھوں پاؤنڈ خرچ ہونے کے باوجود مقامی کونسلرز نے ایک عمدہ منصوبے کو صرف اس لیے مسترد کر دیا کہ وہ صنعتی تاریخ کے دور کو مٹا دے گا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ پہلی بار گھر خریدنے والے کو اوسطاً 18 کروڑ 50 لاکھ روپے(5 لاکھ پاؤنڈ) ادا کرنا پڑتے ہیں، جو اوسط تنخواہ سے 10 گنا زیادہ ہے، جبکہ کرایہ دار اپنی آمدنی کا 42 فیصد صرف چھت پر خرچ کر رہے ہیں-یہ شرح 1950 کی دہائی میں صرف 15 فیصد تھی اور نتیجتاً نوجوان لاکھوں افراد مانچسٹر جیسے سستے شہروں یا برطانیہ سے باہر نقل مکانی پر مجبور ہو رہے ہیں۔ تعمیراتی شعبے میں روزگار 21 فیصد گر چکا، 5 ہزار سے زائد گھروں کی تعمیر 2025 میں رک گئی، اور 2 لاکھ 81 ہزار غیر تعمیر شدہ گھر ایسے ہیں جن کی منظوری تو مل گئی مگر سخت شرائط کے باعث ڈیولپرز نے انہیں چھوڑ دیا۔ گرین فیل ٹاور سانحے کے بعد نافذ ہونے والے دو سیڑھیوں کے قانون نے لاگت کو حفاظتی فوائد سے 294 گنا بڑھا دیا، جبکہ بریکسٹ کے باوجود یورپی یونین کے سخت ماحولیاتی ضوابط برقرار رکھے گئے ہیں-یہ سب مل کر تعمیرات کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔ اس بحران نے سیاسی منظرنامہ بھی بدل دیا ہے، جہاں گرین پارٹی سخت کرایہ کنٹرول کے نعرے پر نوجوانوں میں مقبول ہو رہی ہے اور ریفارم یو کے امیگریشن مخالف موقف پر بوڑھے ووٹرز کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ جبکہ آکلینڈ، وینکوور اور آسٹن جیسے شہروں نے قوانین میں نرمی کرکے تعمیرات دگنی اور تگنی کر لی ہیں، لندن اب بھی اسی فرسودہ نظام کا شکار ہے، اور ماہرین متنبہ ہیں کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ شہر اپنی معاشی اہمیت اور عالمی کشش دونوں کھو بیٹھے گا-یہ ایک ایسا بحران ہے جو اب صرف رہائش تک محدود نہیں، بلکہ برطانیہ کی پوری معیشت اور سماجی ہم آہنگی کو چیلنج کر رہا ہے۔امریکی اخبار کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق لندن میں ہر سال تقریباً 88 ہزار نئے گھروں کی ضرورت ہے، مگر 2024-25 کے دوران صرف 4,170 یونٹس کی تعمیر شروع ہو سکی، جبکہ اسی عرصے میں آبادی میں تقریباً ایک لاکھ افراد کا اضافہ ہوا، جو طلب اور رسد کے درمیان خطرناک فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر لندن کو مغربی یورپ کے معیار تک پہنچنا ہے تو اسے مزید 11 لاکھ گھروں کی تعمیر درکار ہوگی۔ تقابلی طور پر ویانا نے گزشتہ برس لندن کے مقابلے میں تین گنا زیادہ گھر تعمیر کیے، حالانکہ اس کی آبادی نمایاں طور پر کم ہے، جو لندن کی پالیسی ناکامیوں کو واضح کرتا ہے۔رہائشی قلت اب صرف شہری سہولت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات معیشت، سیاست اور سماجی نقل و حرکت تک پھیل چکے ہیں۔ لندن، جو کبھی برطانیہ کی معاشی طاقت کا مرکز سمجھا جاتا تھا، اب بڑھتے دباؤ کے باعث اپنی کشش کھوتا جا رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2017 کے بعد سے تعمیراتی شعبے میں روزگار میں 21 فیصد کمی آ چکی ہے، جبکہ 2025 کی آخری سہ ماہی میں تقریباً 50 منصوبوں پر مشتمل 5 ہزار سے زائد مکانوں کی تعمیر رک گئی، جس کی بڑی وجہ ٹھیکیدار کمپنیوں کا دیوالیہ ہونا اور مالی مشکلات ہیں۔رہائش کے اخراجات میں غیر معمولی اضافہ بھی بحران کو شدید بنا رہا ہے۔ پہلی بار گھر خریدنے والوں کو اوسطاً 5 لاکھ پاؤنڈ ادا کرنا پڑتے ہیں، جو اوسط سالانہ آمدنی کا تقریباً 10 گنا ہے، جبکہ کرایہ دار اپنی آمدنی کا 42 فیصد رہائش پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جو تاریخی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔یہ صورتحال نوجوانوں کے لیے خاص طور پر تشویشناک ہے، جن میں سے بہت سے افراد سستے شہروں جیسے مانچسٹر منتقل ہو رہے ہیں، جبکہ کچھ برطانیہ چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں، جس سے افرادی قوت اور معاشی ڈھانچے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اس بحران کی بنیادی وجہ 1940 کی دہائی کا سخت منصوبہ بندی نظام ہے، جس کے تحت ہر تعمیراتی منصوبے کی منظوری پیچیدہ اور طویل عمل سے گزرتی ہے، جہاں مقامی حکام ڈیزائن، سائز اور ماحولیاتی اثرات سمیت متعدد عوامل کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔مقامی کونسلوں اور منتخب نمائندوں کا کردار بھی اہم ہے، جو اکثر عوامی دباؤ یا سیاسی مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں۔ مسترد ہونے والے منصوبوں کی شرح 2000 میں 20 فیصد سے بڑھ کر 2024 میں 30 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 2025 کے آغاز سے لندن میں 20 یونٹس سے زائد کے 37 منصوبے مسترد کیے جا چکے ہیں۔مزید برآں، بڑھتی تعمیراتی لاگت، ہنرمند افراد کی کمی، سپلائی چین مسائل اور بلند شرح سود نے بھی تعمیراتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے۔ 2017 کی گرین فیل ٹاور آتشزدگی کے بعد نافذ سخت حفاظتی قوانین، جیسے بلند عمارتوں کے لیے دو سیڑھیوں کی شرط، نے لاگت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔حکومت کی جانب سے مارچ میں پیش کیے گئے ہنگامی منصوبے کے باوجود بڑے ڈویلپرز نے خبردار کیا ہے کہ سخت قوانین اور بڑھتے اخراجات کے باعث وہ اپنی سرگرمیاں محدود کر رہے ہیں۔ شورڈچ ورکس جیسے منصوبے، جو چار سال سے منظوری کے منتظر ہیں، اور نجی ڈویلپرز کے بڑھتے مالی نقصانات اس نظام کی پیچیدگی کو واضح کرتے ہیں۔دوسری جانب آکلینڈ، وینکوور اور آسٹن جیسے شہروں نے قوانین میں نرمی کر کے تعمیرات میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس سے قیمتوں اور کرایوں میں استحکام آیا۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر لندن نے فوری اصلاحات نہ کیں تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور اس کے اثرات برطانیہ کی معیشت اور معاشرت دونوں پر گہرے ہوں گے۔