• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن رہائشی بحران، پاکستان کی ڈیولپمنٹ اتھارٹیز اور حکومت کیلئے آئینہ

کراچی (رفیق مانگٹ )لندن میں جاری رہائشی بحران پاکستان کی ڈولپمنٹ اتھارٹیز اور حکومت کیلئے آئینہ ہے، ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ آج اصلاحات نہ کی گئیں تو کل لندن کا بحران پاکستان کے شہروں کی حقیقت بن جائے گا، پاکستان میں رہائشی بحران اب ایک گہری معاشی و سماجی ایمرجنسی کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں ایک طرف ایک کروڑ سے زائد گھروں کی کمی ہے تو دوسری جانب عالمی بینک کے مطابق شہری آبادی کی بڑی تعداد غیر معیاری اور غیر رسمی بستیوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے، 47فیصد شہری گھرانے غیر معیاری رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں، کراچی میں غیر رسمی بستیاں، لاہور ماسٹر پلان میں تاخیر ،فیصل آباد، پشاور اورراولپنڈی میں غیر منظور اسکیمیںچل رہی ہیں، اسلام آباد میں جائیدادوں کی مصنوعی قلت ہے۔ عالمی بینک، یو این ہیبی ٹیٹ اور قومی پالیسی دستاویزات کے اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہاؤسنگ افورڈیبلٹی مسلسل کم ہو رہی ہے، ادارہ جاتی کمزوریاں بڑھ رہی ہیں اور منصوبہ بندی کا فقدان بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی کمی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں 47 فیصد گھرانے گنجان اور غیر معیاری رہائش میں مقیم ہیں۔ یو این ہیبی ٹیٹ بھی ایک کروڑ سے زائد گھروں کے بیک لاگ اور نصف سے زیادہ شہری آبادی کے غیر رسمی بستیوں میں رہنے کی نشاندہی کرتا ہے-ہاؤسنگ افورڈیبلٹی انڈیکس 2025 میں پاکستان کا اسکور صرف 0.4 رہ جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ گھر خریدنا عام شہری کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے، خصوصاً جب اس کا موازنہ بنگلہ دیش (0.7) اور بھارت (0.8) سے کیا جائے۔ ملک کے بڑے شہروں میں 50 فیصد سے زائد شہری آبادی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہے، جہاں صاف پانی، نکاسی آب، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات ناکافی ہیں۔ کراچی میں بحران سب سے زیادہ شدید ہے، جہاں تقریباً 60 فیصد آبادی کچی آبادیوں میں رہتی ہے۔ کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (KDA) اور کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کو زمین کے غیر شفاف ریکارڈ، غیر قانونی قبضوں اور مالی وسائل کی کمی جیسے مسائل درپیش ہیں، جس کے باعث نئی ہاؤسنگ اسکیموں کی ترقی تقریباً معطل ہو چکی ہے۔شہر میں کئی دہائیوں سے کوئی بڑی سرکاری ہاؤسنگ اسکیم سامنے نہیں آ سکی، جبکہ ہاکس بے اسکیم 42 جیسے منصوبے 40 سال سے زائد عرصے سے التوا کا شکار ہیں۔ اس طویل جمود نے رہائشی قلت کو مزید گہرا کیا اور غیر رسمی رہائش کو فروغ دیا۔ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی مالی حالت بھی انتہائی خراب ہے۔ کے ڈی اے کو ماہانہ تقریباً 13 کروڑ روپے کے خسارے کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ نئے منصوبے شروع کرنے سے قاصر ہے۔ ایسے میں نجی ڈیولپرز کو زمین دینے کی پالیسی شفافیت کے بغیر متنازع بن رہی ہے، جبکہ ماہرین قبضہ مافیا سے زمین واگزار کروا کر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے شفاف ماڈل اپنانے پر زور دیتے ہیں۔لاہور میں بھی صورتحال تشویشناک ہے جہاں لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا ماسٹر پلان 2050 تاخیر کا شکار ہے اور شہر اب بھی 2016 کے پرانے پلان کے تحت چل رہا ہے۔ اس تاخیر کے باعث غیر منصوبہ بند شہری پھیلاؤ، زرعی زمینوں کا تیزی سے خاتمہ اور انفراسٹرکچر پر شدید دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔اسلام آباد میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو زمین کی محدود دستیابی اور سیکٹر ڈیولپمنٹ میں تاخیر جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہو کر جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ تاہم زمین کے ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن ایک مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔دیگر شہروں جیسے فیصل آباد، پشاور اور راولپنڈی میں بھی غیر منصوبہ بند پھیلاؤ، کمزور انفراسٹرکچر اور غیر منظور شدہ ہاؤسنگ اسکیموں کی بھرمار نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں لاکھوں افراد بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔پالیسی سطح پر ریڈ ٹیپزم، متعدد این او سیز اور مختلف اداروں کی مداخلت تعمیراتی منصوبوں میں تاخیر کا باعث بنتی ہے۔ نیشنل ہاؤسنگ پالیسی 2025 کے مطابق نہ صرف ہاؤسنگ کی کمی بلکہ تعمیراتی لاگت میں غیر معمولی اضافہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے، جبکہ ون ونڈو آپریشن کا فقدان سرمایہ کاری کو سست کر رہا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کو افقی پھیلاؤ کے بجائے عمودی (ورٹیکل) ترقی اور کمپیکٹ سٹی ماڈل اپنانا ہوگا۔ لندن کے مڈ رائز ہاؤسنگ ماڈل کو ایک قابل عمل مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تاہم سخت ضوابط جیسے سینٹ پال کیتھیڈرل کے ویوز کے تحفظ جیسے اقدامات پاکستان میں بلا سوچے سمجھے لاگو کرنا ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔

اہم خبریں سے مزید