کراچی(رفیق مانگٹ)“کاکروچ” کا لفظ کیسے احتجاجی شناخت بنا؟ متنازع بیان سے مزاحمتی علامت تک کا سفر، ابھیجیت دیپکے... بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم سے سوشل میڈیا تحریک کے بانی تک...ایک غیر متوقع سیاسی سفر، سوشل میڈیا پر 17 سے 20 مئی کے دوران ڈیڑھ کروڑ فالوورز، مجموعی طور پر 2.3 کروڑ تک رسائی،چیف جسٹس کی وضاحت ناکام،جعلی ڈگریوں کا حوالہ بھی نوجوانوں کا غصہ ٹھنڈا نہ کر سکا،جنگ جاری،بھارت میں نوجوانوں کی ایک غیر معمولی اور طنزیہ احتجاجی لہر “کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)” کی صورت میں ابھر کر سامنے آئی، جس نے چند ہی ہفتوں میں سوشل میڈیا سے سڑکوں تک طاقتور عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ یہ تحریک 15 مئی 2026 کو سوریا کانت کے ایک متنازع بیان کے بعد شروع ہوئی، جس میں انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کو “کاکروچ” قرار دیا۔ اس بیان نے شدید ردعمل کو جنم دیا، جسے نوجوانوں نے احتجاجی مزاح میں بدل کر ایک منظم مہم کی بنیاد رکھ دی۔ یہ تحریک باضابطہ سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل اور عوامی مزاحمتی پلیٹ فارم ہے، جسے 16 مئی 2026 کو ابھیجیت دیپکے نے شروع کیا۔ دیپکے، جو بوسٹن یونیورسٹی کے طالب علم اور سابق سیاسی میڈیا حکمت عملی ساز رہے ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (ٹوئٹر) پر طنزیہ انداز میں اس تحریک کا اعلان کیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کر لی۔ چیف جسٹس کے بیان کا متن خاصا متنازع رہا، جس میں انہوں نے کہا کہ کچھ نوجوان “کاکروچوں کی طرح” ہیں جو روزگار نہ ملنے پر میڈیا یا سماجی کارکن بن کر دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ اس بیان کو نوجوانوں نے توہین کے بجائے مزاحمتی شناخت میں تبدیل کیا اور “کاکروچ” کو اپنی اجتماعی علامت بنا لیا، جو اس تحریک کی سب سے بڑی نفسیاتی اور علامتی کامیابی ثابت ہوئی۔